خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 292
292 $2003 خطبات مسرور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں پائی جاتی ہے۔یہ اشارہ کر رہے ہیں وہ فرشتے۔اور ایسا ہی الہام متذکرہ بالا میں جو آل رسول پر درود بھیجنے کا حکم ہے۔سواس میں بھی یہی ستر ہے کہ افاضہ انوار الہی میں محبت اہل بیت کو بھی نہایت عظیم دخل ہے۔اور جو شخص حضرت احدیت کے مقربین میں داخل ہوتا ہے وہ انہیں طیبین طاہرین کی وراثت پاتا ہے۔اور تمام علوم ومعارف میں ان کا وارث ٹھہرتا ہے۔(براهین احمدیه هر چهار حصص روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۹۷ تا ۵۹۹ حدیث شریف میں آتا ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علی نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ شخص ہوگا جو ان میں سے مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہوگا۔(ترمذى كتاب الصلاة باب ماجاء في فضل الصلاة على النبي) پھر ایک روایت آتی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو تم بھی وہی الفاظ دہراؤ جو وہ کہتا ہے۔پھر مجھ پر درود بھیجو۔جس شخص نے مجھ پر درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس گنا رحمتیں نازل فرمائے گا۔پھر فرمایا: میرے لئے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ مانگو یہ جنت کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے ایک کو ملے گا اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں گا۔جس کسی نے بھی میرے لئے اللہ سے وسیلہ مانگا اس کے لئے شفاعت حلال ہو جائے گی۔صحیح مسلم كتاب الصلاة باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعه ثم يصلى على النبي) تو اس سے مزید یہ واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کی رحمتیں اور اس کی بخشش اگر چاہتے ہو تو وہ اب صرف اور صرف آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے ہی ملے گی اور یہ بھی آپ کا بہت سے احسانوں میں سے ایک احسان ہے کہ اس کا طریق بھی سکھا دیا، اذان کے بعد کی دعا بھی سکھا دی کہ اس طرح میر اوسیلہ تلاش کرو۔تو یہ دعا بھی ہر ایک کو یاد کرنی چاہئے۔پھر ایک حدیث ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: مجھ پر درود بھیجا کرو۔تمہارا مجھ پر درود بھیجنا خود تمہاری پاکیزگی اور ترقی کا ذریعہ ہے۔(جلاء الافهام بحواله كتاب صلواة على النبى اسماعيل بن اسحاق) پس کس شخص کی خواہش نہیں ہوتی کہ وہ نیکی اور پاکیزگی میں ترقی کرے۔تو ہمارے محسن،