خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 291 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 291

291 $2003 خطبات مسرور درود بھیجنے کی وجہ سے ہی یہ سب کچھ حاصل ہوا ہے۔تو اندرونی اور بیرونی راستوں سے داخل ہونے کا مطلب بھی یہی ہے کہ اب اس برکت سے آپ پر ہر طرح کی برکتیں اور فضل نازل ہوتے رہیں گے اور آپ پر بھی آنحضرت ﷺ کا فیض جو ہے وہ پہنچتارہے گا۔تو یہ ہیں درود کی برکات۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک الہام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّالِ مُحَمَّدٍ سَيِّدِ وُلْدِ آدَمَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔درود بھیج محمد اور آل محمد پر جو سردار ہے آدم کے بیٹوں کا اور خاتم الانبیاء ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ سب مراتب اور تفصلات اور عنایات اسی کی طفیل سے ہیں۔اور اسی سے محبت کرنے کا صلہ ہے۔سبحان اللہ اس سرور کائنات کے حضرت احدیت میں کیا ہی اعلیٰ مراتب ہیں اور کس قسم کا قرب ہے۔کہ اس کا محب خدا کا محبوب بن جاتا ہے“۔(یعنی آپ ﷺ کے اللہ تعالیٰ کے حضور آپ کا مرتبہ کتنا بلند ہے کہ جو آنحضرت ﷺ سے محبت کرنے والا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا بھی محبوب بن جاتا ہے۔اور اس کا خادم ایک دنیا کا مخدوم بنایا جاتا ہے۔تو فرماتے ہیں کہ : ” اس مقام پر مجھ کو یاد آیا کہ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔اسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پر ٹور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں۔اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد کی طرف بھیجے تھے۔اور ایسا ہی عجیب ایک اور قصہ یاد آیا ہے کہ ایک مرتبہ الہام ہوا۔جس کے معنی یہ تھے کہ ملاء اعلی کے لوگ خصومت میں ہیں۔یعنی ارادہ الہی احیاء دین کے لئے جوش میں ہے۔(اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ دین کا از سرنو سے احیاء ہو، دین پھیلے ) لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پر شخص نفی کی تعیین ظاہر نہیں ہوئی۔اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔اسی اثنا میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک میمی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا۔اور اشارہ سے اس نے کہا هذَا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُوْلَ اللهِ یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے۔اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے۔یعنی سب سے بڑی شرط یہی ہے کہ دین کو زندہ کرنے والا کون ہوگا ، وہی جو اللہ تعالیٰ کے رسول سے محبت رکھتا ہے سو وہ اس شخص میں متحقق ہے۔یعنی یہ شرط