خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 282

خطبات مسرور 282 مال اور اپنی عزت اور اپنی اولا د اور اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔$2003 دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد ایک ایسا عہد ہے کہ جماعت کا ہر وہ فرد جس کا جماعت کے ساتھ باقاعدہ رابطہ ہے، اجلاسوں اور اجتماعوں وغیرہ میں شامل ہوتا ہے وہ اس عہد کو بارہا دہراتا ہے۔ہر اجتماع اور ہر جلسہ وغیرہ میں بھی بینرز لگائے جاتے ہیں اور اکثر ان میں یہ بھی ہوتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔کیوں اس بات کو اتنی اہمیت دی گئی ہے، اس لئے کہ اس کے بغیر ایمان قائم ہی نہیں رہ سکتا۔اس پر عمل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔اس لئے اس کے حصول کے لئے ہر وقت ہر لحظہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہنا چاہئے۔اس کا فضل ہی ہو تو یہ اعلیٰ معیار قائم ہو سکتا ہے۔تو ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے شامل ہیں۔ہمارے لئے تو للہ تعالیٰ اس طرح حکم فرماتا ہے۔قرآن شریف میں آیا ہے۔﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ۔حُنَفَاءَ وَيُقِيْمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُو الزَّكُوةَ وَذَلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ (سورة البينه : (۶) اور وہ کوئی حکم نہیں دیئے گئے سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اُس کے لئے خالص کرتے ہوئے ، ہمیشہ اس کی طرف جھکتے ہوئے ، اور نماز کو قائم کریں اور زکوۃ دیں۔اور یہی قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی تعلیمات کا دین ہے۔تو نمازوں کو قائم کرنے سے یعنی با جماعت اور وقت پر نماز پڑھنے سے ، اس کی راہ میں خرچ کرنے سے، غریبوں کا خیال رکھنے سے بھی ہم صحیح دین پر قائم ہو سکتے ہیں۔اور ان تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا سکتے ہیں، اپنی زندگیوں پر لاگو کر سکتے ہیں جب ہم اللہ کی عبادت کریں گے ، اس کی دی ہوئی تعلیم پر عمل کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے گا، ہمارے ایمانوں کو اس قدر مضبوط کر دے گا کہ ہمیں اپنی ذات، اپنی خواہشات، اپنی اولادیں، دین کے مقابلے میں بیچ نظر آنے لگیں گی۔تو جب سب کچھ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے لئے ہو جائے گا اور ہمارا اپنا کچھ نہ رہے گا تو اللہ تعالیٰ پھر ایسے لوگوں کو ضائع نہیں کرتا۔وہ ان کی عزتوں کی بھی حفاظت کرتا ہے، ان کی اولا دوں کی بھی حفاظت کرتا ہے، ان میں برکت ڈالتا ہے، ان کے مال کو بھی بڑھاتا ہے اور ان کو اپنی رحمت اور فضل کی چادر میں ہمیشہ لپیٹے رکھتا ہے اور ان کے ہر قسم کے خوف دور کر دیتا ہے۔جیسا کہ فرمایا