خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 273
$2003 273 خطبات مسرور منافقت کی برائی بھی ظاہر ہو رہی ہوتی ہے۔تو یہ تکبر جو ہے بہت سی اخلاقی برائیوں کا باعث بن جاتا ہے اور نیکی میں ترقی کے راستے آہستہ آہستہ بالکل بند ہو جاتے ہیں۔اور پھر دین سے بھی دور ہو جاتے ہیں ، نظام جماعت سے بھی دور ہو جاتے ہیں۔اور جیسے جیسے ان کا تکبر بڑھتا ہے ویسے ویسے وہ اللہ اور رسول کے قرب سے، اس کے فضلوں سے بھی دور چلے جاتے ہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ مجھے محبوب اور سب سے زیادہ میرے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے ہوں گے۔اور میں تم میں سے سے زیادہ مبغوض اور مجھ سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جوثر تاریعنی منہ پھٹ، بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے ہیں، متشدق یعنی منہ پھلا پھلا کر باتیں کرنے والے اور مُتفيهق یعنی لوگوں پر تکبر جتلانے والے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ !اثر ثار اور متشرق کے معنے تو ہم جانتے ہیں، مُتفَيْهِق کسے کہتے ہیں۔آپ نے فرمایا: مُتفيهق متکبرانہ باتیں کرنے والے کو کہتے ہیں۔(ترمذی ابواب البر والصلة باب في معالى الاخلاق۔۔۔۔۔۔ایک اور حدیث ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، آنحضرت ﷺ نے فرمایا : تین باتیں ہر گناہ کی جڑ ہیں ان سے بچنا چاہئے۔تکبر سے بچو کیونکہ تکبر نے ہی شیطان کو اس بات پرا کسایا کہ وہ آدم کو سجدہ نہ کرے۔دوسرے حرص سے بچو کیونکہ حرص نے ہی آدم کو درخت کھانے پر اکسایا۔تیسرے حسد سے بچو کیونکہ حسد کی وجہ سے ہی آدم کے دو بیٹوں میں سے ایک نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تھا۔قشيريه باب الحسد صفحه (۷۹ صلى الله پھر حدیث ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت علی نے فرمایا : جس کے دل میں ذرہ بھر بھی تکبر ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں نہیں داخل ہونے دے گا۔ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! انسان چاہتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، جوتی اچھی ہو اور خوبصورت لگے۔آپ نے فرمایا : یہ تکبر نہیں۔آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جمیل ہے، جمال کو پسند کرتا ہے، یعنی خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔تکبر دراصل یہ ہے کہ انسان حق کا انکار کرنے لگے ، لوگوں کو