خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 271 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 271

$2003 271 خطبات مسرور ذریعوں سے انسانی زندگی پر شیطان حملہ کرتا رہتا ہے۔بہت خوف کا مقام ہے۔اصل میں تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہو تو اس سے بچا جا سکتا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے بھی اس ساتو میں شرط میں ایک راستہ رکھ دیا۔فرمایا کیونکہ تم تکبر کی عادت کو چھوڑو گے تو جو خلا پیدا ہو گا اس کو اگر عاجزی اور فروتنی سے پر نہ کیا تو تکبر پھر حملہ کرے گا۔اس لئے عاجزی کو اپناؤ کیونکہ یہی راہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔آپ نے خود بھی اس عاجزی کو اس انتہا ء تک پہنچادیا جس کی کوئی مثال نہیں تبھی تو اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر آپ کو الہام فرمایا کہ تیری عاجزانہ راہیں اس کو پسند آئیں۔تو ہمیں جو آپ کی بیعت کے دعویدار ہیں ، آپ کو امام الزمان مانتے ہیں، کس حد تک اس خُلق کو اپنانا چاہئے۔انسان کی تو اپنی ویسے بھی کوئی حیثیت نہیں ہے کہ تکبر دکھائے اور اکڑتا پھرے۔یہ قرآن شریف کی آیت میں پڑھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا۔(بنی اسراءیل: ۳۸) اور زمین میں اکڑ کر نہ چل۔تو یقیناً زمین کو پھاڑ نہیں سکتا اور نہ قامت میں پہاڑوں کی بلندی تک پہنچ سکتا ہے۔جیسا کہ اس آیت سے صاف ظاہر ہے انسان کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔کس بات کی اکٹر فوں ہے۔بعض لوگ کنویں کے مینڈک ہوتے ہیں، اپنے دائرہ سے باہر نکلنا نہیں چاہتے۔اور وہیں بیٹھے سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم بڑی چیز ہیں۔اس کی مثال اس وقت میں ایک چھوٹے سے چھوٹے دائرے کی دیتا ہوں، جو ایک گھریلو معاشرے کا دائرہ ہے، آپ کے گھر کا ماحول ہے۔بعض مرد اپنے گھر میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کر رہے ہوتے ہیں کہ روح کانپ جاتی ہے۔بعض بچیاں لکھتی ہیں کہ ہم بچپن سے اپنی بلوغ کی عمر کو پہنچ چکی ہیں اور اب ہم سے برداشت نہیں ہوتا۔ہمارے باپ نے ہماری ماں کے ساتھ اور ہمارے ساتھ ہمیشہ ظلم کا رویہ رکھا ہے۔باپ کے گھر میں داخل ہوتے ہی ہم سہم کر اپنے کمروں میں چلے جاتے ہیں۔کبھی باپ کے سامنے ہماری ماں نے یا ہم نے کوئی بات کہہ دی جو اس کی طبیعت کے خلاف ہو تو ایسا ظالم باپ ہے کہ سب کی شامت آجاتی ہے۔تو یہ تکبر ہی ہے جس نے ایسے باپوں کو اس انتہا تک پہنچا دیا ہے اور اکثر ایسے