خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 270 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 270

خطبات مس $2003 270 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- جلسہ کی آخری تقریر میں میں شرائط بیعت کے متعلق بیان کر رہا تھا تو وقت کی وجہ سے ساری بیان نہیں کی گئیں۔چھ شرائط اب تک بیان ہو چکی ہیں اور اب دو میں نے آج کے لئے لی ہیں۔شرط ہفتم۔ساتویں شرط یہ ہے : یہ کہ تکبر اور نخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔شیطان کیونکہ تکبر دکھانے کے بعد سے ابتدا سے ہی یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ میں اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگاؤں گا اور عبادالرحمن نہیں بنے دوں گا اور مختلف طریقوں سے اس طرح انسان کو اپنے جال میں پھنساؤں گا کہ اس سے نیکیاں سرزد اگر ہو بھی جائیں تو وہ اپنی طبیعت کے مطابق ان پر گھمنڈ کرنے لگے اور یہ نخوت اور یہ گھمنڈ اس کو یعنی انسان کو آہستہ آہستہ تکبر کی طرف لے جائے گا۔یہ تکبر آخر کار اس کو اس نیکی کے ثواب سے محروم کر دے گا۔تو کیونکہ شیطان نے پہلے دن سے ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ انسان کو راہ راست سے بھٹکائے گا اور اس نے خود بھی تکبر کی وجہ سے ہی اللہ تعالیٰ کے حکم کا انکار کیا تھا اس لئے یہی وہ حربہ ہے جو شیطان مختلف حیلوں بہانوں سے انسان پر آزماتا ہے اور سوائے عبادالرحمن کے کہ وہ عموماً اس ذریعہ سے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہوتے ہیں، عبادتگزار ہوتے ہیں، بچتے رہتے ہیں۔اس کے علاوہ عموماً تکبر کا ہی یہ ذریعہ ہے جس کے ذریعہ شیطان انسان کو اپنی گرفت میں لینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔تو یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔کہ یہ ہم نے بیعت کرتے ہوئے یہ شرط تسلیم کر لی کہ تکبر نہیں کریں گے نخوت نہیں کریں گے، بکلی چھوڑ دیں گے۔یہ اتنا آسان کام نہیں ہے۔اس کی مختلف قسمیں ہیں، مختلف