خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 259 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 259

$2003 259 خطبات مسرور کے مطابق فیصلہ کروائیں۔پھر ایسے لوگوں کا کبھی بھی جب کوئی معاملہ ہو تو نظام جماعت نہیں سنے گا۔پھر وہ کبھی اپنے معاملے جماعت کے پاس نہ لا ئیں۔اور جب ایسے لوگوں کے معاملے نظام جماعت لینے سے انکار کرتا ہے تو پھر ایسے لوگ سیکرٹری امور عامہ، صدر یا امیر کے خلاف شکایات کرنا شروع کر دیتے ہیں، اعتراض شروع کر دیتے ہیں کہ دیکھو یہ لوگ ہمارے جھگڑوں کو نمٹانے میں تعاون نہیں کرتے۔خلیفہ وقت کو بھی لمبے لمبے خط لکھے جاتے ہیں اور وقت ضائع کیا جاتا ہے۔تو یہ سب شیطانی خیال ہیں۔وہ تمہارے دل میں پہلے وسوسہ ڈالتا ہے، کہ دیکھوا اپنا معاملہ جماعت میں نہ لے کے جانا۔دوسرے فریق کے تعلقات عہدیداران سے زیادہ ہیں وہ تمہارے خلاف فیصلہ کر والے گا اور اپنے حق میں فیصلہ کر والے گا۔تو پھر ایک دفعہ شیطان کی گرفت میں آگئے تو پھر باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے اور ایک چکر شروع ہو جاتا ہے جو آہستہ آہستہ دلوں میں داغ پیدا کرتا رہتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اے ایمان والو! خدا کی راہ میں گردن ڈال دو اور شیطانی راہوں کو اختیار مت کرو کہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔اس جگہ شیطان سے مراد وہی لوگ ہیں جو بدی کی تعلیم دیتے ہیں“۔(تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام جلداول صفحه ۲۹۸۔سورة البقره آیت (۲۰۹ تو ایک تو یہ وجہ ہے کہ ذاتی جھگڑوں کی وجہ سے چاہے نظام جماعت سے فیصلہ کروایا جا رہا ہے یا نہیں کروایا جا رہا جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا کہ لوگ ہیں جو تمہیں بدی کی تعلیم دیتے ہیں، بد خیالات دل میں پیدا کرتے ہیں، نظام کے خلاف ابھارتے ہیں ان کی وجہ سے تم شیطان کے چکر میں آجاتے ہو۔تو وہ چکر یہی ہے کہ چاہے ملکی عدالت میں جھگڑوں کی صورت میں جائیں یا نظام جماعت سے اپنے معاملات کا فیصلہ کروانے کی کوشش کریں۔کوئی نہ کوئی فریق جس کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے جماعتی عہدیداران کو ملوث کر کے اس کے خلاف ہو جاتا ہے اور پھر نظام پر بدظنی شروع ہو جاتی ہے اور اس کے خلاف اظہار شروع ہو جاتا ہے۔تو عملاً ایسے لوگ اپنے آپ کو نظام جماعت سے علیحدہ کر لیتے ہیں۔اور پھر وہ نہ ادھر کے رہتے ہیں نہ ادھر کے رہتے ہیں۔اس سلسلہ میں اس حدیث کو ہم سب کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔