خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 248 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 248

$2003 248 خطبات مسرور یہ کلمات صبح کے وقت کہے اسے شام تک کوئی مصیبت نہیں پہنچے گی اور جس نے شام کے وقت یہ کلمات کہے اسے صبح تک کوئی مصیبت نہیں پہنچے گی اور وہ کلمات یہ ہیں : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ عَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيم۔مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَلَمْ بِشَاء لَمْ يَكُنْ لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ۔أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلّ شَيْءٍ قَدِيْرِ۔وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَمِنْ شَرِكُلّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيم۔یعنی اے میرے اللہ ! تو ہی میرا رب ہے۔تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔میں تجھ پر ہی تو کل کرتا ہوں اور تو ہی عرش عظیم کا رب ہے۔اور جو تو نے چاہا ہو گیا اور جو نہ چاہا وہ واقعہ نہ ہوا۔اعلیٰ اور عظمت والے اللہ کے سوا کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔اور میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔اے اللہ میں اپنے نفس کے شر اور ہر اس جاندار کے شر سے جو تیرے قبضہ قدرت میں ہے تیری پناہ میں آتا ہوں۔یقیناً میرا رب سیدھے راستہ پر ہے۔تو یہی تو کل تھا جس کی مثالیں ہمیں اس زمانہ میں بھی نظر آتی ہیں کہ باوجود اس کے کہ چاروں طرف آگ پھیلی ہوئی تھی لیکن اس یقین پر قائم رہنے کی وجہ سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خدا کا وعدہ ہے کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی بھی غلام ہے۔حضرت مولوی رحمت علی صاحب کو اسی وعدہ نے گھر میں بٹھائے رکھا جبکہ اردگرد چاروں طرف آگ تھی۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے بارش کے ذریعہ سے ان تک اس آگ کو پہنچنے نہ دیا اور یہ آگ ان کے گھر تک پہنچنے سے پہلے ہی بجھ گئی۔تو یہ مثالیں ہمیں پھر نظر آتی ہیں جو ایمان اور یقین میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں۔جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ روزمرہ کے معاملات میں بھی تو کل کی کمی بہت سی برائیوں میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔مثلاً غلط بیانی ہے، جھوٹ ہے، جو انسان بعض دفعہ اپنے آپ کو کسی سزا سے بچانے کے لئے بول لیتا ہے۔یا افسر کی ناراضگی سے بچنے کے لئے غلط بیانی سے یا جھوٹ سے کام لیتا ہے اور اس بات پر بڑے خوش ہوتے ہیں کہ دیکھو میں نے عدالت کو یا افسر کو ایسا چکر دیا اور اپنے حق میں