خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 245 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 245

245 $2003 صلى الله خطبات مسرور ہو ) ایک شخص اونٹ پر سوار تھا۔آنحضرت ﷺ کو اس نے دیکھا تعظیم کے لئے نیچے اترا اور ارادہ کیا کہ تو کل کرے اور تدبیر نہ کرے۔چنانچہ اس نے اونٹ کا گھٹنانہ باندھا۔جب رسول اللہ ﷺہے سے مل کر آیا تو دیکھا کہ اونٹ نہیں ہے۔واپس آکر آنحضرت ﷺ سے شکایت کی کہ میں نے تو تو کل کیا تھا لیکن میرا اونٹ جاتا رہا۔آپ نے فرمایا کہ تو نے غلطی کی۔پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھتا، پھر تو کل کرتا تو ٹھیک ہوتا“۔( البدر یکم مارچ ۱۹۰۴ ، ملفوظات جلد ۳ صفحه (۵۶۶ آپ فرماتے ہیں: ” تو کل کرنے والے اور خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے والے کبھی ضائع نہیں ہوتے۔جو آدمی صرف اپنی کوششوں میں رہتا ہے اس کو سوائے ذلت کے اور کیا حاصل ہوسکتا ہے۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہمیشہ سے سنت اللہ یہی چلی آتی ہے کہ جو لوگ دنیا کو چھوڑتے ہیں وہ اس کو پاتے ہیں اور جو اس کے پیچھے دوڑتے ہیں وہ اس سے محروم رہتے ہیں۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے وہ اگر چند روز مکر و فریب سے کچھ حاصل کر بھی لیں تو وہ لا حاصل ہے کیونکہ آخر ان کو سخت نا کامی دیکھنی پڑتی ہے۔اسلام میں عمدہ لوگ وہی گزرے ہیں جنہوں نے دین کے مقابلہ میں دنیا کی کچھ پروانہ کی۔ہندوستان میں قطب الدین اور معین الدین خدا کے اولیاء گزرے ہیں جنہوں نے دین کے مقابلہ میں دنیا کی کچھ پرواہ نہ کی۔ہندوستان میں قطب الدین اور معین الدین خدا کے اولیا گذرے ہیں۔ان لوگوں نے پوشیدہ خدا تعالیٰ کی عبادت کی مگر خدا تعالیٰ نے ان کی عزت کو ظاہر کر دیا۔(بدرجلد ۱۸ اگست ۱۹۰۷ ، ملفوظات جلد ۵ صفحه (۲۴۸ حضرت خلیفہ المسح الاول کے بارہ میں بھی یہ واقعہ ایمان میں زیادتی کا باعث بنتا ہے۔۱۹۰۳۴ میں مولوی کرم دین والے مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گورداسپور تشریف لے جایا کرتے تھے۔تو ایک دفعہ آپ نے پیغام بھجوایا وہاں سے کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی فوراً پہنچ جائیں۔چنانچہ شیخ صاحب کہتے ہیں کہ میں اور حضرت مولوی صاحب دو بجے بعد دو پہر یکہ پر بیٹھ کر بٹالہ کی طرف چل پڑے۔شیخ