خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 236 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 236

236 $2003 خطبات مسرور اَهْلِهَا ، اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دے دیتا ہے یعنی اُس میں فانی ہو کر اُس کے راہ میں وقف کر دیتا ہے۔۔۔اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید ، ہمارے مولی ، ہمارے ہادی، نبی امی صادق اور مصدوق محمد مصطفی ﷺ میں پائی جاتی تھی۔“ (آئینه کمالات اسلام صفحه ۱۶۱۔۱۶۲) پس یا درکھیں کہ امانت کی بہت بڑی اہمیت ہے۔اور جتنے زیادہ عہد یداران جماعت اور میں جا کر امانت کے مطلب کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اتنے ہی زیادہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم ہوتے چلے جائیں گے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے اعلیٰ معیار قائم ہوں گے۔نظام جماعت مضبوط ہوگا، نظام خلافت مضبوط ہو گا۔آپ کی نظام سے وابستگی قائم رہے گی۔خلافت کے نظام کو مضبوط کرنے کے لئے خلیفہ وقت کی تو ہمیشہ یہی دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے متقیوں کا امام بنائے۔تو پھر ان دعاؤں کے مورد، ان کے حامل تو وہی لوگ ہوں گے جو اپنی امانتوں کا پاس کرنے والے، اپنے عہدوں کا پاس کرنے والے، اپنے خدا سے وفا کرنے والے ہوتے ہیں اور تقویٰ پر قائم رہنے والے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جماعت کے ہر فرد کو یہ معیار قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔