خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 20
خطبات مسرور 20 حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں :- $2003 خالص احسان جو مخلوق میں سے کسی کام کرنے والے کے کسی کام کا صلہ نہ ہو مومنوں کے دلوں کو شنا، مدح اور حمد کی طرف کھینچتا ہے۔لہذا وہ خلوص قلب اور صحت نیت سے اپنے محسن کی حمد وثنا کرتے ہیں۔اسی طرح بغیر کسی وہم کے جو شک وشبہ میں ڈالے خدائے رحمان یقیناً قابل تعریف بن جاتا ہے، کیونکہ ایسے انعام کرنے والی ہستی جو لوگوں پر بغیر ان کے کسی حق کے طرح طرح کے احسان کرے اُس ہستی کی ہر وہ شخص حمد کرے گا جس پر انعام واکرام کیا جاتا ہے اور یہ بات انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔پھر جب اتمام نعمت کے باعث حمد اپنے کمال کو پہنچ جائے تو وہ کامل محبت کی جاذب بن جاتی ہے اور ایسا محسن اپنے محبوں کی نظر میں بہت قابلِ تعریف اور محبوب بن جاتا ہے اور یہ صفت رحمانیت کا نتیجہ ہے۔“ (اعجاز المسيح - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ١٠٥-١٠٤) آپ مزید فرماتے ہیں کہ: وہ ہر چیز کا خالق ہے۔اور آسمانوں اور زمینوں میں اسی کی حمد ہوتی ہے۔اور پھر حمد کرنے والے ہمیشہ اس کی حمد میں لگے رہتے ہیں اور اپنی یا دخدا میں محو رہتے ہیں اور کوئی چیز ایسی نہیں مگر ہر وقت اس کی تسبیح وتحمید کرتی رہتی ہے۔اور جب اس کا کوئی بندہ اپنی خواہشات کا چولہ اتار پھینکتا ہے، اپنے جذبات سے الگ ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کی راہوں اور اس کی عبادات میں فنا ہو جاتا ہے، اپنے اُس رب کو پہچان لیتا ہے جس نے اپنی عنایات سے اس کی پرورش کی وہ اپنے تمام اوقات میں اس کی حمد کرتا ہے اور اپنے پورے دل بلکہ اپنے ( وجود کے ) تمام ذرات سے اس سے محبت کرتا ہے تو اس وقت وہ شخص عالمین میں سے ایک عالم بن جاتا ہے۔۔۔۔۔ایک اور عالم وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے طالبوں پر رحم کر کے آخری زمانہ میں مومنوں کے ایک دوسرے گروہ کو پیدا کرے گا اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأَوْلَى وَالْآخِرَة میں اشارہ فرمایا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ہر دوا حمدوں کا ذکر فرما کر ہر دو کو اپنی بے پایاں نعمتوں میں شمار کیا ہے۔ان میں سے پہلے احمد تو ہمارے نبی احمد مصطفے اور رسول مجتبی ہیں اور دوسرا احمد آخر الزمان ہے جس کا نام محسن خدا کی طرف سے مسیح اور مہدی بھی رکھا گیا