خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 235
$2003 235 خطبات مسرور کو کھوہ دے اور اس کی حکومت اپنے وجود پر کچھ نہ رہے اور سب حکومت خدا کی ہو جائے۔اور انسانی جوش سب مفقود ہو جائیں۔اور تمام آرزوئیں اور تمام ارادے اور تمام خواہشیں خدا میں ہو جائیں۔اور نفس امارہ کی تمام عمارتیں منہدم کر کے خاک میں ملا دی جائیں۔اور ایک ایسا پاک محل تقدس اور تطہر کا دل میں دل میں تیار کیا جاوے جس میں حضرت عزت نازل ہو سکیں اور اس کی روح اس میں آباد ہو سکے۔اس قدر تکمیل کے بعد کہا جائے گا کہ وہ امانتیں جو منعم حقیقی نے انسان کو دی تھیں وہ واپس کی گئیں تب ایسے شخص کو یہ آیت صادق آئے گی ﴿وَالَّذِيْنَ هُمْ لَا مَنتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُوْنَ۔پھر آپ فرماتے ہیں : ”انسان کی پیدائش میں دو قسم کے حسن ہیں۔ایک حسن معاملہ اور وہ یہ کہ انسان خدا تعالیٰ کی تمام امانتوں اور عہد کے ادا کرنے میں یہ رعایت رکھے کہ کوئی عمل حتی الوسع ان کے متعلق فوت نہ ہو۔جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں ”راعُونَ“ کے لفظ اسی طرف اشارہ کرتا ہے ایسا ہی لازم ہے کہ انسان مخلوق کی امانتوں اور عہد کی نسبت بھی یہی لحاظ رکھے یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد میں تقویٰ سے کام لے جوحسن معاملہ ہے۔یا یوں کہو کہ روحانی خوبصورتی ہے“۔آپ مزید فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے۔چنانچہ لباس التقوى قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بمقد ور کار بند ہو جائے“۔فرمایا: ”امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قومی اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی و جسمانی ہیں جو خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے اور پھر انسان کامل بر طبق آیت اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّ والا منتِ إِلَى