خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 219
$2003 219 خطبات مسرور جائے اور اپنے جذبات سے خالی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی ذات اس کے طریقوں اور اس کی عبادات میں فنا ہو جائے اور اپنے اس رب کو پہچان لے جس نے اپنی عنایات کے ساتھ اس کی پرورش کی اور وہ اس کی تمام اوقات حمد کرتا رہے اور اس سے پورے دل بلکہ اپنے تمام ذرات سے محبت کرے تو اس وقت وہ عالموں میں سے ایک عالم ہو جائے گا۔اسی لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام اَعْلَمُ الْعَالَمِین کی کتاب میں اُمت رکھا گیا ہے“۔(اعجاز المسیح صفحه ١٣٤ ـ تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام جلد۔، سوم صفحه ٣٥٣٤) جب انسان ایک مومن انسان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے تو پھر بے اختیار اس کی توجہ حمد کی طرف ہو جاتی ہے کیونکہ ہماری شکر گزاری اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا احاطہ کر ہی نہیں سکتی ، جس کے فضل بے انتہا اور لاتعداد ہیں۔ان کا شکر ممکن ہی نہیں۔تو یہ بھی اس کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے اپنی حمد کے طریقے بھی ہمیں سکھلا دئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: "حمد کے معنی تعریف کے ہیں۔عربی میں تعریف کے لئے کئی الفاظ آتے ہیں۔حمد ، مدح ، شکر ، ثنا اللہ تعالیٰ نے حمد کا لفظ چنا ہے جو بلاوجہ نہیں۔شکر کے معنی احسان کے اقرار اور اس پر قدردانی کے اظہار کے ہوتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ لفظ استعمال ہو تو صرف قدر دانی کے معنی ہوتے ہیں۔ظاہر ہے کہ حمد اس سے زیادہ مکمل لفظ ہے کیونکہ حمد صرف احسان کے اقرار کا نام نہیں ہے بلکہ ہر حسین شے کے حسن کے احساس اور اس پر اظہار پسندیدگی اور قدر دانی کا نام بھی ہے۔پس یہ لفظ زیادہ وسیع ہے“۔(تفسیر کبیر جلد اول صفحه (۱۸) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” الحمد ایک جامع دعا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی دعا نہیں کر سکتی۔نہ کسی مذہب نہ کسی احادیث کی دعائیں“۔(تشحيذ الاذهان جلد ۸ نمبر ۱ صفحه ٤٣٤ پھر آپ مزید فرماتے ہیں : ” عمدہ دعا الحمدُ ہے۔اس میں ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ دونوں ترقی کے فقرے موجود ہیں“۔(بدر ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۱ء صفحه ۳) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ” حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی