خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 18
خطبات مسرور 18 $2003 لیکن ان جذبات اور احساسات کو ہم نے وقتی نہیں رہنے دینا بلکہ دعا اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے صلى الله ساتھ اس کی اعلیٰ سے اعلیٰ مثالیں رقم کرنے کا عہد کرنا چاہئے۔ہم اس رسول ﷺ کے ماننے والے ہیں جس نے عسر اور یسر میں اللہ تعالیٰ سے وفا اور اس کی حمد کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی۔آپ ابتدائی دور میں بھی اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرتے رہے۔چنانچہ دیکھو مراد میں بھر آئیں اور آپ فاتحانہ شان سے مکہ میں داخل ہوئے لیکن کس حالت میں۔اس بارہ میں ایک روایت ہے :- ابن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابو بکر نے مجھ سے بیان کیا کہ (فتح مکہ کے دن ) جب آنحضرت می له دوی طوی‘ مقام کے پاس پہنچے تو اس وقت آپ نے سرخ رنگ کی دھاری دار چادر کے پہلو سے اپنا چہرہ مبارک قدرے ڈھانکا ہوا تھا۔اور مکہ کی فتح کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو عزت عطا فرمائی تھی، اس کی وجہ سے آپ نے اپنا سر مبارک اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے اس قدر جھکایا ہوا تھا کہ قریب تھا کہ آپ کی داڑھی مبارک پالان کے اگلے حصہ سے جا چھوئے۔( سيرة ابن هشام ذكر فتح مكة اس حالت کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:- حلو جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کو دیا جاتا ہے وہ انکسار کے رنگ میں ہوتا ہے۔اور شیطان کا عُلُو استکبار سے ملا ہوا تھا۔دیکھو ہمارے نبی کریم ﷺ نے جب مکہ کو فتح کیا تو آپ نے اسی طرح اپنا سر جھکایا اور سجدہ کیا جس طرح ان مصائب اور مشکلات کے دنوں میں جھکاتے اور سجدے کرتے تھے جب اسی مکہ میں آپ کی ہر طرح سے مخالفت کی جاتی اور دکھ دیا جاتا تھا۔جب آپ نے دیکھا کہ میں کس حالت میں یہاں سے گیا تھا اور کس حالت میں اب آیا ہوں تو آپ کا دل خدا کے شکر سے بھر گیا اور آپ نے سجدہ کیا۔(الحكم ٣١/ اکتوبر ۱۹۰۲ ، ملفوظات جلددوم صفحه ٤٠٤ حاشيه) اللہ تعالیٰ ہمیں اس مضمون کو حمد کے مضمون کو جاری رکھنے کی توفیق دے۔اس بارہ میں کچھ مزید احادیث بھی پیش ہیں۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِہ ایک سو مرتبہ کہا، اُس کی سب خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں خواہ وہ سمندر