خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 210 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 210

$2003 210 خطبات مسرور عَجَبًا۔سُمِعَ الدُّعَاءُ إِنِّي مَعَ الْأَفْوَاجِ اتِيْكَ بَغْتَةً۔دُعَاءُ كَ مُسْتَجَابٌ إِنِّي مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَأَصَلَّى وَأَصُوْمُ۔وَأَعْطِيكَ مَا يَدُومُ “۔ہم تجھے نجات دیں گے۔ہم تجھے غالب کریں گے۔میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے اہل کے ساتھ۔اور میں تجھے ایسی بزرگی دوں گا جس سے لوگ تعجب میں پڑیں گے۔میں فوجوں کے ساتھ نا گہانی طور پر آؤں گا۔میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور تجھے وہ چیز دوں گا جو ہمیشہ رہے گی۔(تذکره صفحه ٤٥٩ - ٤٦٠ مطبوعه ١٩٦٩ء) پھر فروری کا ایک الہام ہے۔” اِنّى مَعَ الْأَسْبَابِ اتِيْكَ بَغْتَةً۔إِنِّي مَعَ الرَّسُوْلِ أجِيْبُ۔أَخْطِئ وَأُصِيْبُ إِنِّي مَعَ الرَّسُوْلِ مُحِيْطٌ۔اس کا ترجمہ ہے کہ میں رسول کے ساتھ ہوکر جواب دوں گا۔اپنے ارادے کو کبھی چھوڑ بھی دوں گا اور کبھی ارادہ پورا کروں گا۔کچھ تر جمہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود کیا ہے۔بقیہ ترجمہ اس کا یہ ہے کہ میں خاص سامان لے کر تیرے پاس اچانک آؤں گا۔میں اپنے رسول کی حمایت میں (انہیں ) گھیر نے والا ہوں۔(تذکره صفحه ٤٦٢ - مطبوعه ١٩٦٩ء) ۱۹۰۳ء کا ہی ایک الہام ہے۔فرمایا: ”يُرِيدُونَ اَنْ لَّا يَتِمَّ أَمْرُكَ۔وَاللَّهِ يَأْبَى إِلَّا أَنْ يتِمَّ أَمْرَكَ ،۔وہ ارادہ کریں گے جو تیرا کام نا تمام رہے اور خدا نہیں چاہتا جو تجھے چھوڑ دے۔جب تک تیرے تمام کام پورے نہ کر دے۔(تذکره صفحه ٤٦٦ - مطبوعه ١٩٦٩ء) پھر مارچ ۱۹۰۳ء کا ہی ایک الہام ہے۔اِنَّا نَرِتْ الْأَرْضَ نَأْكُلُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا۔ہم زمین کے وارث ہوں گے اور اطراف سے اس کو کھاتے آئیں گے۔(تذکره صفحه ٤٦٦ - مطبوعه ١٩٦٩ء) اپریل ۱۹۰۳ء میں پھر یہ الہام ہے: ”رَبِّ إِنِّى مَظْلُوْمٌ فَانْتَصِرْ فَسَحِقْهُمْ تَسْحِيْقًا۔اے میرے رب میں ستم رسیدہ ہوں۔میری مددفرما اور انہیں اچھی طرح پیس ڈال۔یہ دعا آج کل ہمیں ہر احمدی کو کرنی چاہئے۔اس پر توجہ دیں۔(تذکره ١٩٦٩، صفحه ٤٧٠) پھر فرمایا کہ میں نے ایک دفعہ کشف میں اللہ تعالیٰ کو تمثل کے طو پر دیکھا۔میرے گلے میں ہاتھ ڈال کر فرمایا: جے توں میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو۔