خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 205
$2003 205 خطبات مسرور نہیں ہو سکتے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ہم پر فضل اور احسان ہے کہ ایم ٹی اے جیسی نعمت ہمیں عطا فرمائی ہے اور آج دنیا کے کونے کونے میں احمدی گھر بیٹھے اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اس جلسہ میں شامل ہور ہے ہیں۔اور اس شکر کے ساتھ بے اختیار حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ کے لئے بھی دعا نکلتی ہے جنہوں نے اس نعمت کو ہم تک پہنچانے کے لئے بے انتہا کوشش کی اور اس کو کامیاب کیا۔اللہ تعالیٰ جماعت کے اس محبت کے جذبے کو جو خدا، رسول اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وجہ سے جماعت کو خلافت سے ہے ہمیشہ قائم رکھے اور اس میں اضافہ کرتا چلا جائے ،اس میں کبھی کمی نہ آئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس جلسہ کو خالصہ کہی جلسہ ہونے کی خواہش اور دعا کی ہے جس میں ہماری روحانی اور علمی ترقی کی باتوں کے علاوہ تربیتی امور کی طرف بھی توجہ دلائی جاتی ہے۔اور اس کا ایک بہت بڑا مقصد جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا آپس میں محبت واخوت کا رشتہ قائم کرنا بھی ہے۔ایک دوسرے کا خیال رکھنا ، اپنے بھائی کے لئے اگر ضرورت پڑے تو اپنے حق چھوڑنے کا حوصلہ رکھنا بھی آپس میں محبت و اخوت کو بڑھانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔گزشتہ خطبہ میں بھی میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ مہمانوں اور میز بانوں دونوں کو خوش خلقی اور خوش مزاجی کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے اور اس کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ایک دوسرے کی تکلیف کا خیال رکھنا چاہئے اور اپنے اندر زیادہ سے زیادہ برداشت کا مادہ پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ کرے کہ یہ معیار پیدا ہو جائیں۔لیکن یہ معیار کس طرح پیدا ہوں، کس طرح ایک دوسرے کی خاطر قربانی دی جائے اس بارہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: وو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہوسکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہر اوے۔اگر میرا ایک بھائی میرے سامنے باوجود اپنے ضعف اور بیماری کے زمین پر سوتا ہے اور میں باوجود اپنی صحت و تندرستی کے چار پائی پر قبضہ کرتا ہوں تا وہ اس پر بیٹھ نہ جاوے تو میری حالت پر افسوس ہے اگر میں نہ اٹھوں اور محبت اور ہمدردی کی راہ سے اپنی چار پائی اس کو نہ دوں اور اپنے لئے فرش زمین پسند نہ کروں۔اگر میرا بھائی بیمار ہے اور کسی درد