خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 199
خطبات مسرور 199 $2003 شاید بعض وجوہ کی بنا پر انتظامیہ اپنا چیکنگ کا نظام اس دفعہ جلسہ پر سخت کرے۔تو ان سے مکمل تعاون کریں اور خاص طور پر خواتین۔ان میں صبر کچھ کم ہوتا ہے، جلدی بے صبر ہو جاتی ہیں۔تو ان کو بھی مکمل تعاون کرنا چاہئے۔یہ بھی ہماری ٹریننگ کا ایک حصہ ہے۔اور آپ کے فائدے کے لئے ہی ہے۔تو اس بارہ میں خاص تعاون کی اپیل ہے۔اسلام آباد کی حدود میں داخلہ سے قبل متعلقہ حفاظتی عملہ کے سامنے خود ہی چیکنگ کے لئے پیش ہو جایا کریں۔حفاظت کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے۔اور یہ تاثر نہ پڑے کہ آپ مجبوراً آمادہ کئے گئے ہیں۔ہر وقت شناختی کارڈ لگا کر رکھیں۔اور اگر کوئی اس کے بغیر نظر آئے تو اس کو بھی نرمی سے توجہ دلا دیں۔اس سے ایک تو انتظامیہ کو پتہ لگتار ہے گا کہ ہر ایک کو کارڈ Issue ہوا ہوا ہے۔اور یہ تو پتہ ہی ہے کہ ہر ایک کو کارڈ Issue ہے۔اس سے یہ پتہ لگ جائے گا کہ جو کارڈ کے بغیر ہے اس کی چیکنگ کرنی ہے۔دوسرے ہر آنے والا مہمان یا جو بھی شامل ہو رہا ہے جلسہ میں اس کو بھی احساس ہوگا کہ یہ کارڈ کے بغیر ہے اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔پھر یہ ہے کہ قیمتی اشیاء اور نقدی وغیرہ کی حفاظت کا خاص خیال رکھیں۔اور یہ آپ کی اپنی ذمہ داری ہے انتظامیہ ہرگز اس کی ذمہ داری نہیں لے گی۔اور سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اس جلسہ کو ہرگز عام دنیاوی جلسوں یا میلوں کی طرح نہ سمجھا جائے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ جلسہ ایسا تو نہیں ہے کہ دنیا کے میلوں کی طرح خوانخواہ التزام اس کا لازم ہے بلکہ اس کا انعقاد صحت نیت اور حسن ثمرات پر موقوف ہے“۔(مجموعه اشتهارات جلد اوّل صفحه ٤٤٠ - ٤٤٣) 66 پھر آپ فرماتے ہیں کہ یہ دنیا کے تماشوں میں سے کوئی تماشا نہیں۔“ (مجموعه اشتهارات جلد اوّل صفحه _ ٤٤٣) تو ان ساری باتوں کو مد نظر رکھیں اور سب سے اہم دعا ہے۔دعاؤں پر زور دیں۔جلسہ پر آتے بھی اور جاتے بھی دعاؤں سے سفر شروع کریں اور سفر کے دوران بھی دعائیں کرتے رہیں اور بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ جلسوں میں شمولیت کی خاطر گھر سے دیر سے نکلے اور جلسہ میں شامل ہونے کی