خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 198
198 $2003 خطبات مسرور ہر جگہ ، بعض اور جگہوں سے بھی شکایات آجاتی ہیں کہ جلسوں میں یہ یہ بدانتظامی ہوئی۔تو ہمارے احمدی ماحول میں دنیا میں ہر جگہ جہاں بھی جلسے ہو رہے ہوں اس بات کا خاص اہتمام ہونا چاہئے کہ خواتین بھی ، بچے بھی خاموشی سے بیٹھ کر جلسہ سنیں اور اس سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔پھر بعض دفعہ شکایات آجاتی ہیں کہ باہر سے آنے والے یہاں اپنے عزیزوں سے تعلق والوں سے، رشتہ داروں سے قرض لینا شروع کر دیتے ہیں شاپنگ کرنے کے لئے۔تو یہ بھی قناعت کی صفت کو گدلا کرنے والی بات ہے۔اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔اتنا ہی خرچ کرنا چاہئے جتنی توفیق ہے آپ کو۔اب یہاں کوئی شاپنگ کرنے کے لئے تو نہیں آئے۔جس غرض کے لئے آئے ہیں وہ جلسہ سالانہ ہے، اپنی تربیت کے لئے ایک روحانی ماحول میں شامل ہونے کے لئے آتے ہیں تو اسی روحانی مائدہ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں اور دنیا کو چھوڑیں۔جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا مہمان نوازی کے سلسلہ میں کہ تین دن کی مہمان نوازی تو ہے لیکن جو لوگ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے گھروں میں ٹھہرتے ہیں تو اگر وہ شوق سے ان کو ٹھہر ابھی لیا جائے تو ہر گز مہمان نوازی نہیں بلکہ اقرباء کے حق میں آتے ہیں۔ان کو جتنا ٹھہرا سکتے ہیں ٹھہرائیں۔یہ نہیں کہ انتظامیہ نے کہہ دیا تھا کہ تین دن سے زیادہ نہ ٹھہر و تو اپنے تعلقات ہی بگاڑ لیں۔پھر ایک بہت اہم چیز ہے حفاظتی نقطہ نگاہ سے نگرانی کرنا۔اپنے ماحول پر گہری نظر رکھنا۔ہر ایک کا فرض ہے کہ اگر اجنبی آدمی ہو تو متعلقہ شعبہ کو اس کی اطلاع کر دیں۔خود کسی سے بھی چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہئے۔جہاں ہر آدمی جو جلسہ میں شامل ہو رہا ہے وہ اپنے ماحول پر نظر رکھے اور اگر اطلاع کرنا ہوا نتظامیہ کو تو اس کے متعلق خبر دار رہنا چاہئے تا کہ ہر حرکت کی فوری کارروائی آپ دیکھ سکیں، نوٹ کرسکیں اور جو کا روائی ہو سکے، کسی ساتھ والے کو بتاسکیں جو انتظامیہ تک پہنچا دے۔اس کا سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہر آدمی زیادہ دور تک نظر تو نہیں رکھ سکتا۔مگر اپنے دائیں بائیں اپنے ساتھیوں پر بہر حال نظر رکھیں جن کو آپ جانتے نہ ہوں۔تو یہی بہت بڑی سیکیورٹی ہے جماعت احمدیہ کی۔