خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 197
$2003 197 خطبات مسرور کر چکا ہوں نظم و ضبط کا خیال رکھیں اور منتظمین جلسہ سے بھر پور تعاون کریں اور ان کی ہر طرح سے اطاعت کریں۔پھر ایک چیز یہ دیکھنے میں آتی ہے کہ ان دنوں میں بعض دفعہ کھانے کا بہت ضیاع ہوتا ہے۔کھانے کے آداب میں تو یہ ہے کہ جتنا پلیٹ میں ڈالیں اس کو مکمل ختم کریں۔کوئی ضیاع نہیں ہونا چاہئے۔بلاوجہ حرص میں آکر زیادہ ڈال لیا یا دیکھا دیکھی ڈال لیا۔اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کریں کہ اس قسم کی کوئی حرکت نہیں ہونی چاہئے جس کا دوسروں پر برا اثر پڑ رہا ہو۔اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کھانا جو ضائع ہورہا ہوتا ہے اکثر کارکنان کا یہ قصور نہیں ہوتا بلکہ لینے والے کا قصور ہوتا ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے اتنا ہی لیں جتنا آپ ختم کر سکیں۔لیکن کارکنان کے لئے بہر حال یہ ہدایت ہے کہ اگر کوئی مطالبہ کرتا ہے کہ مزید دو اور زیادہ لے لیتا ہے تو اسے نرمی سے سمجھا ئیں سختی سے کسی مہمان کو بھی انکار نہیں کرنا اور نہ یہ کسی کارکن کا حق ہے۔پیار سے کہہ سکتے ہیں کہ ختم ہو جائے تو دوبارہ آکر لے لیں۔پھر صفائی کے متعلق پہلے بھی میں نے کہا تھا۔غسل خانوں کی صفائی۔یہاں یہ ہے کہ عمومی صفائی۔کھانا جہاں آپ کھا رہے ہوں ان جگہوں پر بعض لوگ کھانا کھا کر خالی برتنوں کو وہیں رکھ جاتے ہیں اور ڈسٹ بن میں نہیں ڈالتے۔اور یہ معمولی سی بات ہے۔ایک تو کارکنان کا کام بڑھ جاتا ہے۔اس عرصہ میں وہ کوئی اور کام کر سکتے ہیں۔دوسرے گندگی پھیلتی ہے جو ویسے بھی حکم ہے کہ صفائی بھی ایمان کا حصہ ہے۔تو جیسا کہ پہلے میں نے عرض کیا تھا کہ سڑکوں کی اور گراؤنڈ ز کی اور جلسہ گاہ کی صفائی کریں۔تو ہر جگہ پورے ماحول کی صفائی کی ضرورت ہے۔اور صفائی کا خاص طور پر خیال رکھیں۔اس ماحول میں ظاہری صفائی کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔تو بلاوجہ انتظامیہ کو بھی اعتراض کا موقع نہ دیں اور اپنی یادداشت میں محفوظ کر لیں کہ صفائی کو ہر صورت میں آپ نے قائم رکھنا ہے۔پھر یہ جماعتی جلسہ ہے کوئی میلہ نہیں ہے اور نہ اس میں میلہ سمجھ کر شمولیت ہونی چاہئے۔اور نہ یہ صرف میل ملاقات اور خرید وفروخت یا فیشن کا اظہار ہونا چاہئے۔بعض دفعہ خواتین میں یہ دیکھا گیا ہے کہ عورتیں اکٹھی ہوئیں ، باتیں کیں اور بس ختم۔اور یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کیا تقریر یں ہوئیں اور کیا کہا گیا، کس قسم کے تربیتی پروگرام تھے۔تو انتظامیہ اس بات کی خاص نگرانی رکھے۔اب دنیا میں