خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 195 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 195

خطبات مسرور 195 $2003 اسی طرح نمازوں کے دوران اپنے موبائل فون بھی بند رکھیں۔بعضوں کو عادت ہوتی ہے کہ فون لے کر نمازوں پر آجاتے ہیں اور پھر جب گھنٹیاں بجنا شروع ہوتی ہیں تو بالکل توجہ بٹ جاتی ہے نماز سے۔اور جلسہ کی تقریروں کے درمیان بھی مائیں اپنے بچوں کو خاموش رکھنے کی کوشش کرتی رہیں اور اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ پیچھے جا کر بیٹھیں۔فضول گفتگو سے اجتناب کریں۔باہمی گفتگو میں دھیما پن اور وقار قائم رکھیں۔تلخ گفتگو سے اجتناب کریں۔جیسا کہ میں پہلے بھی اوپر ذکر کر چکا ہوں کہ آپس میں ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھیں، کسی بھی قسم کی تلخی پیدا نہیں ہونی چاہئے۔نہ مہمانوں کی آپس میں نہ مہمانوں اور میز بانوں کی ، اور نہ میزبانوں کی آپس میں تو کسی بھی شکل میں کوئی تلخی نہ ہو۔بلکہ ایک روحانی ماحول ہو جو ہر دیکھنے والے کو نظر آتا ہو۔اور پھر یہ ہے کہ بعض لوگ بلند آواز سے عادتنا تو تو میں میں کر کے باتیں کر رہے ہوتے ہیں یا ٹولیوں کی صورت میں بیٹھ کر قہقہے لگارہے ہوتے ہیں۔تو ان تین دنوں میں ان تمام چیزوں سے جس حد تک پر ہیز کر سکتے ہیں کریں بلکہ مکمل طور پر پر ہیز کرنے کی کوشش کریں۔ویسے بھی یہ کوئی ایسی اچھی عادت نہیں۔دوسرے مختلف قسم کے لوگ یہاں آئے ہوئے ہوتے ہیں۔بعض اونچا سننے والے ہیں، بعض زبان نہ سمجھنے والے ہیں تو دیکھنے والا بعض دفعہ باتیں کر رہا ہوتا ہے اور ان کی طرف دیکھ کر ہنس رہا ہوتا ہے جس سے بلا وجہ غلط نہی پیدا ہوتی ہے تو ان چیزوں سے بچنا چاہئے ، پر ہیز کرنی چاہئے۔ایک اور ضروری ہدایت یہ ہے کہ بازار بھی جلسہ کے دوران بند رہیں گے۔تو مہمان بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ بلا وجہ جن لوگوں نے دکانیں بنائی ہوئی ہیں یا سٹال لگائے ہیں ان کو مجبور نہ کریں کہ اس دوران دکانیں کھولیں یا آپ وہاں بیٹھے رہیں۔اگر مجبوری ہو تو چند ضروری چیزیں مہیا ہوسکتی ہیں لیکن انتظامیہ اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ کس حد تک اجازت دینی ہے۔پھر ہے کہ اسلام آباد کے ماحول میں تنگ سڑکوں پر چلنے میں احتیاط اور شور وغل سے پر ہیز کریں۔یہ باہر سے آنے والوں کے لئے خاص طور پر یہ بات یادر رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس ماحول میں یہ نہ سمجھیں کہ آبادی نہیں ہے۔تھوڑی بہت آبادی تو ہوتی ہے تو بلا وجہ شور وغل نہیں ہونا چاہئے۔