خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 188
$2003 188 خطبات مسرور کی طرف توجہ ہوگی ، وہاں سلام کو بھی ہر شخص کو چاہئے کہ مہمان ہو یا میز بان ہو رواج دے۔تو ان تین دنوں میں محبت اور بھائی چارہ اتنا انشاء اللہ بڑھ جائے گا کہ جس کا اثر بعد تک بھی قائم رہے گا۔دوسرے اس کا فائدہ کارکنان کے لئے بھی ہے کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے، آرام کی کمی کی وجہ سے بلا وجہ طبیعت میں بعض دفعہ تیزی اور تندی پیدا ہو جاتی ہے تو جب یہ ایک دوسرے کو سلامتی بھیج رہے ہوں گے تو اس مزاج میں بھی انشاء اللہ تعالیٰ نرمی آئے گی۔پھر ایک حدیث ہے، حضرت ابوذرغفاری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے سامنے تیرا مسکرانا تیرے لئے صدقہ ہے۔تیرا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا بھی ایک صدقہ ہے۔اور بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھانا بھی تیرے لئے صدقہ ہے اور کسی نابینا کی راستہ چلنے میں مدد کرنا تیرے لئے صدقہ ہے اور پتھر، کا شایا ہڈی رستہ سے ہٹا دینا بھی تیرے لئے صدقہ ہے۔اور اپنے ڈول میں سے اپنے بھائی کے ڈول میں کچھ ڈال دینا بھی تیرے لئے صدقہ ہے۔(جامع ترمذی) عام طور پر ہر احمدی کو اپنے اوپر اس حدیث میں بیان کردہ احکامات اپنے اوپر لاگو کرنے کی ضرورت ہے جس سے ایک حسین معاشرہ جنم لے لیکن جلسے کے تین دنوں میں تو بہر حال اس طرف توجہ کی جائے۔کیونکہ اس سے بھی تربیت کے رستے کھلتے ہیں۔پہلے فرمایا کہ مسکراتے رہو۔مسکرانے سے تمہارا تو کچھ نہیں بگڑایا تمہارا تو کچھ نہیں جاتا۔ایک دوسرے سے ملو تو مسکراتے ہوئے ملو۔اگر کوئی نجشیں تھیں تو ان تین دنوں میں اپنی مسکراہٹوں سے اسے ختم کردو۔دوسری بات یہ کہ نیکیوں کو پھیلاؤ، نیکیوں کی تلقین کرو اور بری باتوں سے روکو۔تو یہ جلسہ کی غرض وغایت بھی ہے۔اس لئے جو جلسہ پر آئے ہیں وہ ادھر اُدھر پھرنے کی بجائے جلسہ کے پروگراموں سے بھر پور فائدہ اٹھائیں، اس میں بھر پور حصہ لیں۔پھر خدمت خلق کے کام ہیں۔یہ ضروری نہیں ہیں کہ خدمت خلق پر معمور کارکن ہی یہ کام کریں۔تمام کارکنان کا فرض ہے کہ کسی کو مدد کی اگر ضرورت ہے، راستہ دکھانے کی ضرورت ہے تو اس ضرورت کو پورا کریں۔پھر راستہ کی صفائی کا حکم ہے۔جلسہ کے دنوں میں راستوں کی صفائی کے علاوہ گراؤنڈ میں بھی اور جلسہ گاہ میں بھی بچے اور بڑے گند کر دیتے ہیں تو قطع نظر اس کے کہ کس کی ڈیوٹی ہے جو بھی گند دیکھے اس کو اٹھا کر جہاں بھی کوڑا پھینکنے کے لئے ڈسٹ بن یا ڈبے وغیرہ