خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 174 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 174

$2003 174 خطبات مسرور الله جبیر کو پچاس فوجیوں کے ایک دستے کا امیر مقرر کیا اور ایک پہاڑی درہ پر انہیں متعین کرتے ہوئے فرمایا: اگر تم دیکھو کہ ہمیں پرندے اُچک کر لے جارہے ہیں اور ہمارے گوشت کھا رہے ہیں تو بھی تم نے اس درہ کو نہیں چھوڑنا جہاں میں تمہیں مقرر کر رہا ہوں۔اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے دشمن کو شکست دیدی ہے اور ہم انہیں رگیدے چلے جا رہے ہیں تب بھی تم نے اس وقت تک اس جگہ کو نہیں چھوڑنا جب تک کہ میں تمہیں واپس چلے آنے کا پیغام نہ بھجواؤں۔جب جنگ شروع ہوئی اور مسلمانوں نے کفار کو شکست دیدی اور ہم نے کفار کی عورتوں کو دیکھا کہ وہ کپڑے سمیٹے ننگی پنڈلیاں بھاگی جارہی ہیں۔عبد اللہ بن جبیر کے دستے نے یہ دیکھ کر کہا: اب کس بات کا انتظار ہے، مسلمان فتحیاب ہو گئے ہیں، ہمیں بھی چلنا چاہئے۔عبداللہ بن جبیر نے جواب دیا : کیا تم آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد بھول گئے ہو کہ جب تک میں واپسی کا پیغام نہ بھیجوں، تم نے اس جگہ کو نہیں چھوڑنا۔لیکن لوگوں نے کہا کہ فتح تو ہو چکی ہے، اب ہمیں بھی غنیمت سمیٹنے میں شامل ہونا چاہئے۔چنانچہ وہ درہ چھوڑ کر نیچے آگئے لیکن اس غلطی کو جب دشمن نے دیکھا کہ درہ خالی ہے تو وہ پلٹا اور درّے میں سے ہو کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوا۔اس وجہ سے مسلمانوں کی فتح شکست میں بدل گئی۔(اسی واقعہ کا ذکر قرآن کریم میں ہے ) کہ رسول اُن کو پیچھے سے بلا رہا تھا۔اس حادثہ میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ صرف ۱۲ صحابہ رہ گئے اور ۷۰ کے قریب صحابہ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔جبکہ جنگ بدر میں ۱۴۰ کا فرمسلمانوں کے ہاتھوں بدحال ہوئے تھے، ۷۰ قیدی بنائے گئے تھے اور ۷۰ مارے گئے تھے۔اس موقع پر ابوسفیان نے بلند آواز سے تین دفعہ کہا: کیا تم میں محمد موجود ہیں؟۔حضور ﷺ نے جواب دینے سے منع کر دیا۔پھر اُس نے کہا کہ کیا تم میں ابو قحافہ کے بیٹے ابوبکر موجود ہیں؟ پھر اس نے تین دفعہ بلند آواز سے کہا: کیا تم میں خطاب کے بیٹے عمر موجود ہیں؟ جب اُسے کوئی جواب نہ ملا تو وہ اپنے لشکر کی طرف مڑا اور کہا: یہ سب قتل ہو چکے ہیں۔حضرت عمرؓ اس کی اس بات کو برداشت نہ کر سکے اور بلند آواز سے کہا: اے اللہ کے دشمن ! خدا کی قسم ! جن لوگوں کا تم نے نام لیا ہے، وہ سب کے سب زندہ ہیں اور تمہارے لئے رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔اس پر ابوسفیان نے کہا: جنگ بدر کا بدلہ چکا دیا گیا ہے اور لڑائی تو ڈول کی طرح ہوتی ہے، کبھی ادھر جھکاؤ ہوتا ہے کبھی ادھر۔لوگوں میں تمہیں کچھ لاشیں مثلہ اور بگاڑی ہوئی ملیں گی۔میں نے ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا لیکن مجھے اس کا افسوس بھی نہیں۔پھر وہ رجزیہ نعرہ لگانے لگا: اُعْلُ هُبَلْ ! اُعْلُ هُبَلْ ! حبل بُت کی جے اور اُس کی بلندی۔اس موقعہ پر حضور