خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 171
$2003 171 خطبات مسرور وہ جگہ چھوڑی اور پھر کفار نے دوبارہ پلٹ کر حملہ کیا اور مسلمانوں کو بے انتہا نقصان پہنچایا۔تو جو نتیجہ اس صورت میں نکلنا چاہئے وہ بہت بھیانک ہونا چاہئے لیکن یہ دعائیں ہی تھیں جن کی وجہ سے باوجود اس کے کہ مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچا جس طرح دشمن فتح حاصل کرنا چاہتا تھا اس کو فتح نصیب نہیں ہوئی۔باوجود اس کے کہ بہت سارے صحابہ شہید ہوئے آنحضرت ﷺ کو خود بھی زخم آئے لیکن دشمن پھر بھی فاتح کی حیثیت سے واپس نہیں لوٹ سکا۔کیونکہ اس زمانہ میں جنگوں میں جو رواج تھا کہ مال غنیمت اکٹھا کیا جاتا تھا اور اور بہت سے لوٹ کھسوٹ ہوتی تھی وہ کچھ بھی نہ کر سکے۔اس کی تشریح میں امام فخر الدین رازی کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔فرماتے ہیں: ﴿وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ ﴾ ( آل عمران : ۱۲۲) اس سے پہلے اللہ نے فرمایا ہے کہ وإِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا کہ اگر تم صبر کرو گے اور تقویٰ پر قائم رہو گے تو ان کی تدبیریں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکیں گی۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور مدد کی یہ سنت بیان فرمائی ہے۔لیکن اُحد کے دن مسلمانوں کی تعداد کافی تھی لیکن جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کے احکام کی نافرمانی کی تو شکست سے دو چار ہوئے۔جبکہ بدر کے موقعہ پر باوجود تھوڑے ہونے کے مسلمانوں نے آنحضرت اللہ کی اطاعت کی اور دشمن پر غالب آگئے۔شکست کا ایک سبب یہ بھی بنا کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول نے وعدہ خلافی کر کے اپنے لوگوں کوا لگ کر لیا تھا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ منافقین پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے۔(تفسیر کبیر امام رازی جلد ۸ صفحه ٢٠٤ اس ضمن میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بڑی تفصیل بیان فرمائی ہے دیباچہ تفسیر القرآن میں،وہ میں پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ کفار کے لشکر نے بدر کے میدان سے بھاگتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ اگلے سال ہم دوبارہ مدینہ پر حملہ کریں گے اور اپنی شکست کا مسلمانوں سے بدلہ لیں گے۔چنانچہ ایک سال کے بعد وہ پھر پوری تیاری کر کے مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔مکہ والوں کے غصہ کا یہ حال تھا کہ بدر کی جنگ کے بعد انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ کسی شخص کو اپنے مُردوں پر رونے کی اجازت نہیں اور جو تجارتی قافلے آئیں گے ان کی آمد آئندہ جنگ کے لئے محفوظ