خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 165
165 $2003 خطبات مسرور۔۔گویا اولاد کی امید ہی نہیں رہی ) ان دنوں میں اُس کا بھائی امرتسر میں تھانے دار تھا۔چنانچہ اس نے مجھے کہا کہ مجھے میرے بھائی کے پاس بھیج دو کہ میں کچھ علاج کرواؤں۔میں نے کہا وہاں کیا جاؤ گی یہیں دائی کو بلوا کر دکھلاؤ اور اس کا علاج کرواؤ۔چنانچہ اس نے دائی کو بلوایا اور کہا کہ مجھے کچھ دو وغیرہ دو۔دائی نے سرسری دیکھ کر کہا: میں تو دوا نہیں دیتی نہ ہاتھ لگاتی ہوں کیونکہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا تیرے اندر بھول گیا ہے۔مگر میں نے اس سے کہا کہ ایسا نہ کہو بلکہ میں نے مرزا صاحب سے دعا کروائی تھی۔پھر منشی صاحب بیان کرتے ہیں کہ کچھ عرصے میں حمل کے پورے آثار ظاہر ہو گئے اور میں نے اردگر دسب کو کہنا شروع کیا کہ دیکھ لینا کہ میرے لڑکا پیدا ہوگا اور ہوگا بھی خوبصورت۔مگر لوگ بڑا تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر ایسا ہو گیا تو واقعی بڑی کرامت ہے۔آخر ایک دن رات کے وقت لڑکا پیدا ہوا اور خوبصورت ہوا۔میں اسی وقت دھرم کوٹ بھا گا گیا جہاں میرے کئی رشتہ دار تھے اور لوگوں کو اس کی پیدائش سے اطلاع دی۔چنانچہ کئی لوگ اسی وقت بیعت کے لئے قادیان روانہ ہو گئے۔مگر بعض نہیں گئے اور پھر اس واقعہ پر ونجواں کے بھی بہت سے لوگوں نے بیعت کی اور میں نے بھی بیعت کر لی اور لڑکے کا نام عبدالحق رکھا۔(سيرت المهدى۔حصه اول صفحه (۲۳۹ پھر ایک واقعہ ہے: حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحب کی اہلیہ اول شادی کے چار سال بعد وفات پاگئیں جبکہ اہلیہ ثانی کے بارہ میں متعدد ڈاکٹروں اور حکیموں کی متفقہ رائے تھی کہ اولاد سے محروم رہیں گی۔چنانچہ ڈاکٹر عبدالحکیم نے جب ارتداد اختیار کیا تو حضرت مسیح موعود کو مقابلہ کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ قدرت اللہ کے لئے بے شک دعا کریں اس کے اولاد نہیں ہوگی“۔اس پر حضور علیہ السلام نے دعا کی اور حضرت مولوی صاحب کو لکھوایا اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمہاری اس قدر اولا د ہوگی کہ تم سنبھال نہ سکو گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چودہ بچے عطا کئے جن میں سے پانچ کو وہ سنبھال نہ سکے اور باقی نو بچے خدا کے فضل سے زندہ رہے اور بڑھے پھولے۔(رجسٹر روایات) پھر قبولیت دعا کے نتیجہ میں ایک نعم البدل عطا ہونے کے بارہ میں ایک واقعہ ہے۔حکیم فضل