خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 164
$2003 164 خطبات مسرور ادعا ئیں اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہوئیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں: بیان کیا مجھ سے منشی عطا محمد صاحب پٹواری نے کہ جب میں غیر احمدی تھا۔اور ونجواں ضلع گورداسپور میں پٹواری ہوتا تھا تو قاضی نعمت اللہ صاحب خطیب بٹالوی جن کے ساتھ میراملنا جلنا تھا، مجھے حضرت صاحب کے متعلق بہت تبلیغ کیا کرتے تھے مگر میں پرواہ نہیں کرتا تھا۔ایک دن انہوں نے مجھے بہت تنگ کیا۔میں نے کہا اچھا میں تمہارے مرزا کو خط لکھ کر ایک بات کے متعلق دعا کرا تا ہوں۔اگر وہ کام ہو گیا تو میں سمجھ لوں گا کہ وہ بچے ہیں۔چنانچہ میں نے حضرت صاحب کو خط لکھا کہ آپ مسیح موعود اور ولی اللہ ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں اور ولیوں کی دعائیں سنی جاتی ہیں۔آپ میرے لئے دعا کریں کہ خدا مجھے خوبصورت، صاحب اقبال لڑکا جس بیوی سے میں چاہوں عطا کرے۔اور نیچے میں نے لکھ دیا کہ میری تین بیویاں ہیں مگر کئی سال ہو گئے آج تک کسی کے اولاد نہیں ہوئی۔میں چاہتا ہوں کہ بڑی بیوی کے بطن سے لڑکا ہو۔حضرت صاحب کی طرف سے مجھے مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے ہاتھ کا لکھا ہوا خط گیا کہ مولا کے حضور دعا کی گئی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو فرزندار جمند صاحب اقبال خوبصورت لڑکا جس بیوی سے آپ چاہتے ہیں عطا کرے گا مگر شرط یہ کہ آپ زکریا والی تو بہ کریں۔منشی عطا محمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں ان دنوں سخت بے دین اور شرابی کبابی راشی مرتشی ہوتا تھا۔چنانچہ میں نے جب مسجد میں جا کر ملاں سے پوچھا کہ ذکریا والی تو یہ کیسی تھی تو لوگوں نے تعجب کیا کہ یہ شیطان مسجد میں کس طرح آ گیا ہے۔مگر وہ ملاں مجھے جوا ب نہ دے سکا۔پھر میں نے دھرم کوٹ کے مولوی فتح دین صاحب مرحوم احمدی سے پوچھا۔انہوں نے کہا کہ زکریا والی تو بہ بس یہی ہے کہ بے دینی چھوڑ دو، حلال کھاؤ نماز روزے کے پابند ہو جاؤ اور مسجد میں زیادہ آیا جایا کرو۔یہ سن کر میں نے ایسا کرنا شروع کر دیا۔شراب وغیرہ چھوڑ دی اور رشوت بھی بالکل ترک کر دی اور صلوۃ و صوم کا پابند ہو گیا۔چار پانچ ماہ کا عرصہ گزرا ہو گا کہ میں ایک دن گھر گیا تو اپنی بڑی بیوی کو روتے ہوئے پایا۔سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ پہلے مجھ پر یہ مصیبت تھی کہ میرے اولاد نہیں ہوتی تھی۔آپ نے میرے پر دو بیویاں کیں۔اب یہ مصیبت آئی ہے کہ