خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 161
161 $2003 خطبات مسرور خدا کے نزدیک عبادت ہوتی ہے۔لیکن اگر اس میں اخلاص کی نیت نہ ہو تو نماز بھی لعنت کا طوق ہو جاتی ہے۔“ چاہئے۔پھر آپ فرماتے ہیں: ( البدر ۸ مارچ ١٩٠٤ ، ملفوظات جلد۔سوم - صفحه (٥٧٩،٥٧٨ فنا فی اللہ ہو جانا اور اپنے سب ارادوں اور خواہشات کو چھوڑ کر محض اللہ کے ارادوں اور احکام کا پابند ہو جانا چاہئے کہ اپنے واسطے بھی اور اپنی اولاد، بیوی بچوں، خویش واقارب اور ہمارے واسطے بھی باعث رحمت بن جاؤ۔مخالفوں کے واسطے اعتراض کا موقعہ ہرگز ہرگز نہ دینا (فرماتے ہیں: ) خدا تعالیٰ کی نصرت انہیں کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں، ایک جگہ نہیں ٹھہر جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتا ہے۔بعض لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ ان میں بڑا شوق ذوق اور شدت رقت ہوتی ہے مگر آگے چل کر بالکل ٹھہر جاتے ہیں اور آخر ان کا انجام بخیر نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ أَصْلِحُ لِي فِي ذُرِّيَّتِي (الاحقاف :۱۲) میرے بیوی بچوں کی بھی اصلاح فرما۔اپنی حالت کی پاک تبدیلی اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اولا داور بیوی کے واسطے بھی دعا کرتے رہنا چاہئے کیونکہ اکثر فتنے اولاد کی وجہ سے انسان پر پڑ جاتے ہیں اور اکثر بیوی کی وجہ سے۔دیکھو پہلا فتنہ حضرت آدم پر بھی عورت ہی کی وجہ سے آیا تھا۔حضرت موسی کے مقابلہ میں بلعم کا ایمان جو کبط کیا گیا اصل میں اس کی وجہ بھی تو ریت سے یہی معلوم ہوتی ہے کہ بلعم کی عورت کو اس بادشاہ نے بعض زیورات دکھا کر طمع دید یا تھا اور پھر عورت نے بلغم کو حضرت موسی پر بد دعا کرنے کے واسطے اُکسایا تھا۔غرض اُن کی وجہ سے بھی اکثر انسان پر مصائب شدائد آجایا کرتے ہیں تو اُن کی اصلاح کی طرف بھی پوری توجہ کرنی چاہئے اور ان کے واسطے بھی دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔“ (الحكم ۲ مارچ ۱۹۰۸، ملفوظات جلد ٥ ـ صفحه ٤٥٦ و ٤٥٧ ـ جدید ایڈیشن) پھر آپ نے فرمایا: ی منع نہیں بلکہ جائز ہے کہ اس لحاظ سے اولاد اور دوسرے متعلقین کی خبر گیری کرے کہ وہ اس کے زیر دست ہیں تو پھر یہ بھی ثواب اور عبادت ہی ہوگی اور خدا تعالیٰ کے حکم کے نیچے ہوگا۔۔۔