خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 156 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 156

خطبات مس $2003 156 تشھد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل آیت تلاوت فرمائی سَمِيْعُ الدُّعَاءِ هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ۔قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ (سورة آل عمران (۳۹) یہ آیت جو تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ ہے : اس موقع پر زکریا نے اپنے رب سے دعا کی اے میرے رب ! مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ ذریت عطا کر۔یقینا تو بہت دعا سننے والا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ :- حضرت مریم علیہا السلام کے منہ سے یہ بات سن کر کہ اللہ سب کچھ دیتا ہے، یہ نعمتیں بھی اللہ نے ہی دی ہیں، حضرت زکریا علیہ السلام کے دل پر چوٹ لگی اور انہوں نے خیال کیا کہ جب واقعہ یہی ہے کہ ہر چیز اللہ دیتا ہے اور ایک بچی بھی یہی کہہ رہی ہے تو میں تو سمجھدار اور تجربہ کار ہوں ،میں کیوں نہ یقین کروں کہ ہر چیز خدا ہی دیتا ہے۔چنانچہ هُنالك دَعَا زكريا ربِّه - یہ جواب سن کر حضرت زکریا علیہ السلام کو توجہ ہوئی کہ میں بھی اپنی ضرورت کی چیز خدا تعالیٰ سے مانگوں۔میرے گھر میں بھی کوئی بچہ نہیں۔اگر مریم کی طرح میرے گھر میں بھی بچہ ہوتا اور میں اس سے پوچھتا کہ یہ چیز تمہیں کس نے دی ہے اور وہ کہتا کہ خدا نے ، تو جس طرح مریم کی بات سن کر میرا دل خوش ہوا ہے، اسی طرح اپنے بچے کی بات سن کر میرا دل خوش ہوتا۔پس حضرت مریم علیہا السلام حضرت بیٹی کی پیدائش کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرانے کا ایک محرک ہوگئیں اور اس طرح بالواسطہ طور پر جہاں خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے ماتحت حضرت یحیی علیہ السلام حضرت مسیح کے ارہاص کے طور پر آئے ، وہاں حضرت مریم علیہا السلام جو حضرت مسیح کی والدہ تھیں ، حضرت بیٹی کی پیدائش کے لئے ارباص