خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 142
$2003 142 خطبات مسرور محفوظ ہیں۔بعض جگہ آپ کو ظاہر طور پر وقف کا مضمون نظر آئے گا اور بعض جگہ نہیں آئے گا جیسا کہ یہاں آیا محررا کہ اے خدا! میں تیری پناہ میں اس بچے کو وقف کرتی ہوں۔لیکن بسا اوقات آپ کو یہ دعا نظر آئے گی کہ اے خدا! جو نعمت تو نے مجھے دی ہے، وہ میری اولا د کو بھی دے اور ان میں بھی انعام جاری فرما۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو چلہ کشی کی تھی وہ بھی اسی مضمون کے تحت آتی ہے۔آپ چالیس دن یہ گریہ وزاری کرتے رہے دن رات کہ اے خدا! مجھے اولاد دے اور وہ دے جو تیری غلام ہو جائے ، میری طرف سے ایک تحفہ ہو تیرے حضور، تو یہ ہے سنت انبیاء،سنت ابرار۔اور اس زمانہ میں اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے یہ ہے احمدی ماؤں اور باپوں کا عمل، خوبصورت عمل، جو اپنے بچوں کو قربان کرنے کے لئے پیش کر رہے ہیں۔جہاد میں حصہ لے رہے ہیں لیکن علمی اور قلمی جہاد میں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی فوج میں داخل ہو کر۔اور انشاء اللہ تعالیٰ یہی لوگ فتح یاب ہوں گے جن میں خلافت اور نظام قائم ہے اس کے علاوہ اور کوئی دوسرا طریق کامیاب ہونے والا نہیں۔جس طرح دکھاوے کی نمازوں میں ہلاکت ہے اسی طرح اس دکھاوے کے جہاد میں بھی سوائے ہلاکت کے اور کچھ نہیں ملے گا۔لیکن جن ماؤں اور جن باپوں نے قربانی سے سرشار ہو کر، اس جذبہ سے سرشار ہو کر ، اپنے بچوں کو خدمت اسلام کے لئے پیش کیا ہے ان پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں کیونکہ کچھ عرصہ بھی اگر توجہ نہ دلائی جائے تو بعض دفعہ والدین اپنی ذمہ داریوں کو بھول جاتے ہیں اس لئے گو کہ شعبہ وقف کو توجہ دلاتا رہتا ہے لیکن پھر بھی میں نے محسوس کیا کہ کچھ اس بارہ میں عرض کیا جائے۔اس ضمن میں ایک اہم بات جو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ علیہ کے الفاظ میں میں پیش کرتا ہوں۔فرمایا: اگر ہم ان واقفین نو کی پرورش اور تربیت سے غافل رہے تو خدا کے حضور مجرم ٹھہریں گے۔اور پھر ہرگز یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اتفاقاً یہ واقعات ہو گئے ہیں اس لئے والدین کو چاہئے کہ ان بچوں کے اوپر سب سے پہلے خود گہری نظر رکھیں اور اگر خدانخواستہ وہ سمجھتے ہوں کہ بچہ اپنی افتاد طبع کے لحاظ سے وقف کا اہل نہیں ہے تو ان کو دیانتداری اور تقویٰ کے ساتھ جماعت کو مطلع کرنا چاہئے کہ میں