خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 141
$2003 141 خطبات مسرور لیکن اس کے مقابل پر ایک اور قسم کا گروہ ہے جو اسلام کی حقیقی اور حسین تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔جو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق اس زمانہ میں مسیح موعود کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ: اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال قتال اور تلوار کے جہاد کو حرام قرار دے کر کہتا ہے کہ اس سے بڑے جہاد کی طرف آؤ اور اسلام کے محاسن کو دنیا پر ظاہر کرو۔قرآن کریم کے دلائل دنیا کے سامنے پیش کرو۔دلائل سے دنیا کا منہ بند کرو۔محبت سے اور دلائل سے دنیا کے دل جیتو۔اور یہ صرف منہ کی باتیں نہیں ہیں بلکہ دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ اس وقت اسلام کی بقا اور ترقی اسی مسیح محمدی کے ساتھ وابستہ ہے جس نے دلائل سے لوگوں کے دل جیت کر اپنے زیرنگین کیا اور یہ اعلان کیا کہ ’سیف کا کام قلم سے ہے دکھایا ہم نے“ پس آج اس مسیح موعود کو ماننے والی ماؤں اور باپوں نے خلیفہ وقت کی تحریک پر انبیاء اور ابرار کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مسیح موعود کی فوج میں داخل کرنے کے لئے اپنے بچوں کو پیدائش سے پہلے پیش کیا اور کرتے چلے جا رہے ہیں۔اس بارہ میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع فرماتے ہیں کہ جیسے حضرت مریم کی والدہ نے یہ التجا کی خدا سے رَبِّ إِنِّی نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّى إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔کہ اے میرے رب جو کچھ بھی میرے پیٹ میں ہے میں تیرے لئے پیش کر رہی ہوں۔مجھے نہیں پتہ کیا چیز ہے۔لڑکی ہے کہ لڑکا ہے۔اچھا ہے یا برا ہے۔مگر جو کچھ ہے میں تمہیں دے رہی ہوں۔فَتَقَبَّلْ مِنی مجھ سے قبول فرما۔(إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ تو بہت ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔یہ دعا خدا تعالیٰ کو ایسی پسند آئی کہ اسے قرآن کریم میں آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کر لیا۔اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اپنی اولاد کے متعلق اور دوسرے انبیاء کی دعائیں اپنی اولاد کے متعلق ، یہ ساری قرآن کریم میں