خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 130
130 $2003 خطبات مسرور مت داخل کرو کیونکہ جو دل سے مومن نہیں ہوا وہ ضرور منافق ہے۔شریعت نے منافق اور کافر کو ایک ہی رستی میں جکڑا ہے۔غلطی سے ایسی کہانیاں مشہور ہو گئی ہیں کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا یا گیا ہے“۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ عالمگیر کو بھی الزام دیتے ہیں کہ وہ ظالم تھا اور بالجبر مسلمان کرتا (تھا)۔یہ کیسی بیہودہ بات ہے۔اس کی فوج کے سپہ سالار ایک ہندو تھے۔بڑا حصہ اس کی عمر کا اپنے بھائیوں سے لڑتے گزرا۔اس کی موت بھی تاناشاہ کے مقابل میں ہوئی۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ اسلام بادشاہوں کے افعال کا ذمہ دار نہیں ہے۔مسلمانوں نے یہی غلطی کی کہ معترضین کے مفتریات کو تسلیم کر لیا حالانکہ اسلام دلی محبت و اخلاق سے حق بات ماننے کا نام ہے۔اسی لئے اسلام میں جبر نہیں۔حقائق الفرقان جلد اول صفحه (۳۹۱ حضرت خلیقہ البیع الاول مزید فرماتے ہیں: ہمیں کتاب مغازی میں (خواہ کیسی ہی نا قابل وثوق کیوں نہ ہوں ) کوئی ایک بھی مثال نظر نہیں آتی کہ آنحضرت ﷺ نے کسی شخص کسی خاندان کسی قبیلے کو بزور شمشیر واجبار مسلمان کیا ہو۔سرولیم میور صاحب کا فقرہ کیسا صاف صاف بتاتا ہے کہ شہر مدینہ کے ہزاروں مسلمانوں میں سے کوئی ایک شخص بھی بزور و اکراہ اسلام میں داخل نہیں کیا گیا اور مکہ میں بھی آنحضرت ﷺ کا یہی رویہ الله اور سلوک رہا بلکہ ان سلاطین عظام ( محمود غزنوی، سلطان صلاح الدین ، اور نگ زیب) کی محققانہ اور صحیح تواریخ میں کوئی ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ کسی شخص کو انہوں نے بالجبر مسلمان کیا ہو۔ہاں ہم ان کے وقت میں غیر قوموں کو بڑے بڑے عہدوں اور مناصب پر ممتاز وسرفراز پاتے ہیں۔پس کیسا بڑا ثبوت ہے کہ اہل اسلام نے قطع نظر مقاصد ملکی کے اشاعت اسلام کے لئے کبھی تلوار نہیں اٹھائی“۔پھر فرمایا : ” قوانین اسلام کے موافق ہر قسم کی آزادی مذہبی اور مذہب والوں کو بخشی گئی جو سلطنت اسلام کی مطیع ومحکوم تھے۔لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ دین میں کوئی اجبار نہیں۔یہ آیت کھلی دلیل 66 اس امر کی ہے کہ اسلام میں اور اہل مذاہب کو آزادی بخشنے اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم ہے“۔(فصل الخطاب - جلد اول صفحه (۹۹،۹۸