خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 129
خطبات مسرور 129 حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں: $2003 یہ عجیب بات ہے کہ اسلام پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ جبر سے دین پھیلانے کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اسلام اگر ایک طرف جہاد کے لئے مسلمانوں کو تیار کرتا ہے جیسا کہ اس سورۃ میں وہ فرما چکا ہے کہ قَاتِلُوْا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقْتِلُوْنَكُمْ (بقرہ: ۱۹۱ ) عنی تم اللہ کی راہ میں ، ان لوگوں سے جنگ کرو، جو تم سے جنگ کرتے ہیں۔تو دوسری طرف وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدّین یعنی جنگ کا جو حکم تمہیں دیا گیا ہے، اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ لوگوں کو مسلمان بنانے کے لئے جبر کرنا جائز ہو گیا ہے، بلکہ جنگ کا یہ حکم محض دشمن کے شر سے بچنے اور اس کے مفاسد کو دور کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔اگر اسلام میں جبر جائز ہوتا تو یہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ قرآن کریم ایک طرف تو مسلمانوں کو لڑائی کا حکم دیتا اور دوسری طرف اسی سورۃ میں یہ فرما دیتا کہ دین کے لئے جبر نہ کرو۔کیا اس کا واضح الفاظ میں یہ مطلب نہیں کہ اسلام دین کے معاملے میں دوسروں پر جبر کرنا کسی صورت میں بھی جائز قرار نہیں دیتا۔پس یہ آیت دین کے معاملے میں ہر قسم کے جبر کو نہ صرف ناجائز قرار دیتی ہے بلکہ جس مقام پر یہ آیت واقع ہے، اس سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام جبر کے بالکل خلاف ہے۔پس عیسائی مستشرقین کا یہ اعتراض بالکل غلط ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعہ غیر مذاہب والوں کو اسلام میں داخل کرنے کا حکم دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہی وہ سب سے پہلا مذہب ہے جس نے دنیا کے سامنے یہ تعلیم پیش کی کہ مذہب کے معاملے میں ہر شخص کو آزادی حاصل ہے اور دین کے بارے میں کسی پر کوئی جبر نہیں۔“ (تفسیر کبیر۔جلد دوم صفحه ٥٨٥ تا ٥٨٦) حضرت ظریفت اسبیع الاول رضی اللہ عنہ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں۔خلیفۃ لا إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ ایک انبیاء کی راہ ہوتی ہے، ایک بادشاہوں کی۔انبیاء کا یہ قاعدہ نہیں ہوتا کہ وہ ظلم وجو رو تعدی سے کام لیں۔ہاں بادشاہ جبر و اکراہ سے کام لیتے ہیں۔پولیس اُس وقت گرفت کر سکتی ہے جب کوئی گناہ کا ارتکاب کر دے مگر مذہب گناہ کے ارادے کو بھی روکتا ہے۔پس جب مذہب کی حکومت کو آدمی مان لیتا ہے تو پولیس کی حکومت اس کی پر ہیز گاری کے لئے ضروری نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جبر وا کراہ کا تعلق مذہب سے نہیں۔پس کسی کو جبر سے