خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 119
$2003 119 خطبات مسرور رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی تھی کہ میں آئندہ مسطح صحابی کو صدقہ خیرات نہیں دوں گا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ﴿وَلَا تَجْعَلُوْا اللَّهَ عُرْضَةً لِأَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوْا وَتَتَّقُوا۔یعنی ایسی قسمیں مت کھاؤ جو نیک کاموں سے باز رکھیں تغییر مفتی ابو مسعود مفتی روم میں زیر آیت وَلَا تَجْعَلُوْا اللهَ عُرْضَةً لِأَيْمَانِكُمْ لکھا ہے کہ عرضہ اس کو کہتے ہیں کہ جو چیز ایک بات کے کرنے سے عاجز اور مانع ہو جائے اور لکھا ہے کہ یہ آیت ابوبکر صدیق کے حق میں ہے جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ مسطح کو جو صحابی ہے، باعث شراکت اس کی حدیث افک میں، کچھ خیرات نہیں دوں گا۔پس خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ایسی قسمیں مت کھاؤ جو تمہیں نیک کاموں اور اعمال صالحہ سے روک دیں، نہ یہ کہ معاملہ متنازعہ، جس سے طے ہو“ (الحکم۔جلد۸ـ نمبر ۲۲ ـ بتاریخ ۱۰ جولائی ١٩٠٤ء۔صفحه (٧) اب صفت سمیع کے تحت بعض احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قبولیت دعا کے بعض واقعات کا ذکر کرتا ہوں۔حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ ایک شخص جمعے کے روز مسجد نبوی میں اس صلى الله دروازے سے داخل ہوا جو منبر کے سامنے تھا۔رسول اللہ علہ اس وقت کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔اُس نے آنحضرت ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کر کے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مویشی مر رہے ہیں ، راستے مخدوش ہو رہے ہیں ، آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہم پر بارش برسائے۔اس پر رسول اللہ ے نے اپنے دونوں ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے اور دعا کرتے ہوئے تین مرتبہ کہا: "اللَّهُ عليسة اسْقِنَا‘ اے اللہ ! ہم پر بارش کا پانی نازل کر۔انس بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! ہمیں اُس وقت آسمان پر کوئی بادل یا بادل کا ٹکڑا نظر نہیں آرہا تھا جبکہ سلع پہاڑ تک ان دنوں کوئی گھر تعمیر نہ ہوا تھا۔اچانک سلع کے پیچھے سے ڈھال کی شکل کی ایک بدلی نمودار ہوئی جب وہ آسمان کے وسط میں آئی تو پھیل گئی ، پھر بارش برسانے لگی۔انس بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! ہم نے چھ دن تک سورج نہیں دیکھا۔پھر ایک شخص اگلے جمعہ، اُسی دروازے سے داخل ہوا اور رسول اللہ نے کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔وہ آپ کے سامنے کھڑا ہوا اور مخاطب ہوا اور کہا : یا رسول اللہ ! اموال تباہ ہور ہے ہیں، راستے منقطع ہو گئے