خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 118
$2003 118 خطبات مسرور ہے کہ یہ نہ کرو کہ خدا تعالیٰ کو اپنی قسموں کا نشانہ بنا لو۔یعنی اُٹھے اور قسم کھالی۔یہ ادب کے خلاف ہے اور جو شخص اس عادت میں مبتلا ہو جاتا ہے وہ بسا اوقات نیک کاموں کے بارے میں بھی قسمیں کھالیتا ہے کہ میں ایسا نہیں کروں گا۔اور اس طرح یا تو بے ادبی کا اور یا نیکی سے محرومی کا شکار ہو جاتا ہے۔یا یہ کہ بعض اچھے کاموں کے متعلق قسمیں کھا کر خدا تعالیٰ کو ان کے لئے روک نہ بنالو۔ان معنوں کی صورت میں داؤ پیچ والے معنے خوب چسپاں ہوتے ہیں۔اور مطلب یہ ہے کہ بعض لوگ صدقہ و خیرات سے بچنے کے لئے چالیں چلتے ہیں اور داؤ کھیلتے ہیں اور بعض خدا تعالیٰ کی قسم کو جان بچانے کا ذریعہ بتاتے ہیں۔گویا دوسرے سے بچنے اور اُسے پچھاڑنے میں جو داؤ استعمال کئے جاتے ہیں اُن میں سے ایک خدا تعالیٰ کی قسم بھی ہوتی ہے۔پس فرماتا ہے: اللہ تعالیٰ کے نام کو ایسے ذلیل حیلوں کے طور پر استعمال نہ کیا کرو۔میرے نزدیک سب سے اچھی تشریح علامہ ابوحیان کی ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنے احسان اور نیکی وغیرہ کے آگے روک بنا کر کھڑا نہ کر دیا کرو۔وَاللَّهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ میں بتایا کہ اگر تمہیں نیکی اور تقوی اور اصلاح بین الناس کے کام میں مشکلات پیش آئیں تو خدا تعالیٰ سے اس کا دفعیہ چاہو اور ہمیشہ دعاؤں سے کام لیتے رہو کیونکہ یہ کام دعاؤں کے بغیر سرانجام نہیں پاسکتے اور پھر یہ بھی یاد رکھوکہ اللہ تعالیٰ علیم بھی ہے۔اگر تم اس کی طرف جھکو گے تو وہ اپنے علم میں سے تمہیں علم عطا فرمائے گا اور نیکی اور تقویٰ کے بارے میں تمہارا قدم صرف پہلی سیڑھی پر نہیں رہے گا بلکہ علم لدنی سے بھی تمہیں حصہ دیا جائے گا۔“ (تفسیر کبیر جلد دوم - صفحه ٥٠٦ تا ٥٠٧ حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عُرْضَةٌ : اللہ کے نام کو نیکی کرنے میں روک نہ بناؤ مثلاً خدا کی قسم کھا کر یہ کہہ دیا: میں فلاں کے ساتھ نیکی نہیں کروں گا ، فلاں کے گھر نہ جاؤں گا۔وغیرہ (حقائق الفرقان جلد ۱ صفحه ٣٦٢،٣٦١) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- قرآن شریف کی رُو سے لغو یا جھوٹی قسمیں کھانا منع ہے کیونکہ وہ خدا سے ٹھٹھا ہے اور گستاخی ہے اور ایسی قسمیں کھانا بھی منع ہے جو نیک کاموں سے محروم کرتی ہوں جیسا کہ حضرت ابوبکر