خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 117 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 117

117 $2003 خطبات مسرور اللہ تعالی کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ۔یعنی جس طرح ایک شخص نشانہ پر بار بار تیر مارتا ہے اسی طرح تم بار بار خدا تعالیٰ کی قسمیں نہ کھایا کرو کہ ہم یوں کر دینگے اور ؤوں کر دیں گے۔آن تَبَرُّوْا وَتَتَّقُوْا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ ) یہ ایک نیا اور الگ فقرہ ہے جو مبتدا ہے خبر مخدوف کا۔اور خبر مخدوف أَمْثَلُ وَاوْلی ہے۔یعنی بِرُّكُمْ وَتَقْواكُمْ وَإِصْلَاحُكُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَمْثَلُ وَأَوْلَى اس کے معنے یہ ہیں کہ تمہارا نیکی اور تقویٰ اختیار کرنا اور اصلاح بین الناس کرنا زیادہ اچھا ہے۔صرف قسمیں کھاتے رہنا کہ ہم ایسا کر دیں گے، کوئی درست طریق نہیں۔تمہیں چاہیے کہ قسمیں کھانے کی بجائے کام کر کے دکھاؤ۔پہلے قسمیں کھانے کی کیا ضرورت ہے۔زجاج جومشہور نحوی اور ادیب گزرے ہیں ، انہوں نے یہی معنے کئے ہیں۔پھر حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں کہ دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو روک نہ بناؤ اُن چیزوں کے لئے جن پر تم قسم کھاتے ہو۔یعنی بسر کرنا تقومی کرنا اور اصلاح بین الناس کرنا۔اس صورت میں یہ تینوں ایمان کا عطف بیان ہیں اور ایمان کے معنے قسموں کے نہیں بلکہ اُن چیزوں کے ہیں جن پر قسم کھائی جاتی ہے۔مطلب یہ کہ اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے نیک کام کی قسم نہ کھالیا کرو۔تا کہ یہ کہہ سکو کہ کیا کروں چونکہ میں قسم کھا چکا ہوں، اس لئے نہیں کر سکتا۔مثلاً کسی ضرورتمند نے روپیہ مانگا تو کہ دیا کہ میں نے تو قسم کھالی ہے کہ آئندہ میں کسی کو قرض نہیں دوں گا۔تو آپ فرماتے ہیں کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ اگر کوئی نیکی اور تقوی اور اصلاح بین الناس کے کام کے لئے تمہیں کہے تو یہ نہ کہو کہ میں نے تو قسم کھائی ہوئی ہے، ہمیں یہ کام نہیں کر سکتا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ تیسرے معنے یہ ہیں کہ اس ڈر سے کہ تمہیں نیکی کرنی پڑے گی خدا تعالیٰ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ۔اس صورت میں اَنْ تَبَرُّوا مفعول لاجلہ ہے اور اس سے پہلے کراهة مقدر ہے۔اور مراد یہ ہے کہ اگر اچھی باتیں نہ کرنے کی قسمیں کھاؤ گے تو ان خوبیوں سے محروم ہو جاؤ گے، اس لئے نیکی تقوئی اور اصلاح بین الناس کی خاطر اس لغو طریق سے بچتے رہو۔در حقیقت یہ سب معنے آپس میں ملتے جلتے ہیں۔صرف عربی عبارت کی مشکل کو مختلف طریق سے حل کیا گیا ہے۔جس بات پر سب مفسرین متفق ہیں ، وہ یہ ہے کہ اس آیت میں یہ بتایا گیا