خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 116 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 116

$2003 116 خطبات مسرور دیتی ہیں مجھے وراثت میں اتنی جائیداد تو ملی تھی لیکن میں نے اپنے بھائی کو یا بھائیوں کو دے دی اور اس وقت میرے پاس کچھ نہیں ہے۔اب اگر آپ گہرائی میں جا کر دیکھیں، جب بھی جائزہ لیا گیا تو پتہ یہی لگتا ہے کہ بھائی نے یا بھائیوں نے حصہ نہیں دیا اور اپنی عزت کی خاطر یہ بیان دے دیا کہ ہم نے دے دی ہے۔یا کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ بھائی یا دوسرے ورثاء بالکل معمولی سی رقم اس کے بدلہ میں دے دیتے ہیں حالانکہ اصل جائیداد کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔تو ایک تو یہ ہے کہ وصیت کرنے والے، نظام وصیت میں شامل ہونے والے ، ان سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے تقویٰ کے اعلیٰ معیار کی امید رکھی ہے اس لئے ان کو ہمیشہ قول سدید سے کام لینا چاہئے اور حقیقت بیان کرنی چاہئے کیونکہ جو نظام وصیت میں شامل ہیں تقویٰ کے اعلیٰ معیار اور شریعت کے احکام کو قائم کرنے کی ذمہ داری ان پر دوسروں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔اس لئے جو بھی حقیقت ہے، مقطع نظر اس کے کہ آپ کے بھائی پر کوئی حرف آتا ہے یا ناراضگی ہو یا نہ ہوں، حقیقت حال جو ہے وہ بہر حال واضح کرنی چاہئے۔تا کہ ایک تو یہ کہ کسی کا حق مارا گیا ہے تو نظام حرکت میں آئے اور ان کو حق دلوایا جائے۔دوسرے ایک چیز جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہے شریعت کی رو سے اس سے وہ اپنے آپ کو کیوں محروم کر رہی ہیں۔اور صرف یہی نہیں کہ اپنے آپ کو محروم کر رہی ہیں بلکہ وصیت کے نظام میں شامل ہو کے جو ان کا ایک حصہ ہے اس سے خدا تعالیٰ کے لئے جو دینا چاہتی ہیں اس سے بھی غلط بیانی سے کام لے کے وہاں بھی صحیح طرح ادا ئیگی نہیں کر رہیں۔تو اس لئے یہ بہت احتیاط سے چلنے والی بات ہے۔وصیت کرتے وقت سوچ سمجھ کر یہ ساری باتیں واضح طور پر لکھ کے دینی چاہئیں۔پھر صفت سمیع کے ضمن میں ایک اور آیت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَجْعَلُوْا اللهَ عُرْضَةً لَايْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوْا وَتَتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَيْنَ النَّاسِ۔وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴾ (سورة البقره : ٢٢٥) اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ اس غرض سے نہ بناؤ کہ تم نیکی کرنے یا تقوی اختیار کرنے یا لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے سے بچ جاؤ۔اور اللہ بہت سننے والا ( اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔اس ضمن میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: