خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 112 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 112

112 $2003 خطبات مسرور زہر ملا کر اُسے کھلا دیتا ہے یا اس کا مال یا جانور چرالیتا ہے۔یہ وہ حملے ہیں جو اُس کے علم میں نہیں ہوتے اور اس وقت ہوتے ہیں جبکہ وہ بے خبر ہوتا ہے۔ان دونوں حملوں کے بچاؤ کی مختلف تدبیریں ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ دشمن کس طرح اور کس رنگ میں حملہ کرے گا۔اگر تم کو اُس کے حملہ کا علم ہو مگر تم دفاع کی طاقت نہ پاؤ تو ایک سمیع اور علیم خدا موجود ہے۔وہ جانتا ہے کہ دشمن تم پر حملہ آور ہے اور تم میں اُس کے دفاع کی طاقت نہیں۔پس تم گھبراؤ نہیں۔تم ہمیں آواز دو۔ہم فوراً تمہاری مدد کے لئے آجائیں گے۔اور اگر تم سوئے ہوئے ہو یا راستے پر سے گزر رہے ہو یا تاریکی میں سفر کر رہے ہو اور دشمن نے اچانک تم پر حملہ کر دیا ہے یا کھانے میں زہر ملا دیا ہے یا چوری سے مال نکال لیا ہے۔یا کسی دوست سے مل کر اُس نے تم پر حملہ کر دیا ہے اور تمہیں اس کا علم نہیں ہوا۔تو فرماتا ہے کہ ہم علیم ہیں۔ہم خوب جاننے والے ہیں اور ہمیں ہر قسم کی قو تیں حاصل ہیں۔اس لئے ایسی حالت میں بھی تم گھبراؤ نہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کو پکار اور اُس سے دُعائیں کرو۔وہ تمہاری تمام مشکلات کو دُور کر دے گا اور تمہارے دشمن کو نا کام اور ذلیل کرے گا۔“ 66 (تفسیر کبیر جلد نمبر ۲ - صفحه ٢١٥ - ٢١٦) اب جب انسان پر کوئی مصیبت یا آفت آتی ہے اس وقت تو خدا تعالیٰ کو پکارتا ہے، قدرتی بات ہے اور اس وقت مومن یا کافر کا سوال نہیں۔ہر ایک کو جو خدا تعالیٰ پر یقین نہیں کرتے ، دہریہ بھی ، اس وقت خدا تعالیٰ کو پکارتے ہیں۔تو ایسی حالت میں جب اضطراب پیدا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ سن بھی لیتا ہے لیکن مومن کا یہ کام ہے کہ امن کی حالت میں بھی خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتا رہے، اپنی حفاظت کے لئے ، جماعت کے لئے ، جماعت کی ترقی کے لئے تا کہ جب مشکل دور آئے اس وقت جو پہلے مانگی ہوئی دعائیں ہیں ان کا بھی اثر ہو اور خدا تعالیٰ اپنی قبولیت کے نظارے جلد سے جلد دکھا سکے۔اس لئے ہمیشہ ہر احمدی کا یہ فرض ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہم پر کوئی مشکل یا مصیبت آئے تو ہم نے دعائیں مانگتی ہیں۔ان مشکلات سے بچنے کے لئے بھی دعاؤں کی بہت ضرورت ہے اور ہم سب پر یہ فرض بنتا ہے کہ دعاؤں پر بہت زور دیں اور مستقلاً اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: پس اگر دوسرے لوگ بھی جو اسلام کے مخالف ہیں اسی طرح ایمان لاویں اور کسی نبی