خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 111 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 111

111 $2003 خطبات مسرور فَسَيَكْفِيْكَهُمُ الله - اُن کے مقابلے میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کا فی ہے۔وہ اُن کے حملوں سے تمہیں خود بچائے گا اور تمہاری آپ حفاظت فرمائے گا۔جب تک انسان کو یہ مقام حاصل نہ ہو ، وہ حقیقی مومن نہیں کہلا سکتا۔ایمان کا مقام وہی ہے جو فَسَيَكْفِيْكَهُمُ الله کے ماتحت ہو۔یعنی وہ اس مقام پر کھڑا ہو کہ دشمن اُسے نقصان پہنچانے کے لئے خواہ کس قدر کوشش کرے ، وہ سمجھے کہ میرا خدا میرے ساتھ ہے، وہ دشمن کو مجھ پر غالب نہیں آنے دے گا۔اور اگر اس مقابلے میں میرے لئے موت مقدر ہے، تب بھی کوئی غم نہیں کیونکہ ہم نے مرکر خدا کے پاس ہی جانا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ڈرتے کیوں ہو۔اگر تم خدا تعالیٰ پر ایمان لائے ہو تو وہی تمہاری حفاظت کرے گا اور وہی تمہیں ہر قسم کے نقصان سے بچائے گا۔غرض اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو تم سمجھ لو کہ ان کے دلوں میں تمہاری نسبت سخت عداوت اور دشمنی ہے۔اور وہ تمہارے خلاف شرارتیں کریں گے۔مگر ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کافی ہوگا، وہ تمہیں اُن کے حملے سے خود بچائے گا۔اور اُن کی شرارتیں تمہیں کو ئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گی۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں:- وهو السمیع العلیم فرماتا ہے: یہ نہ سمجھ لو کہ اب خدا تعالیٰ کی طرف سے چونکہ وعدہ ہو گیا ہے اس لئے ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ دُعائیں کرو کہ ایسا ہی ہو۔خدا تعالیٰ سننے والا ہے اور جن باتوں کا تمہیں علم نہیں، اُن کا اُسے خود علم ہے۔وہ آپ اُن کا انتظام کر دے گا۔انسان کی دو حالتیں ہوا کرتی ہیں۔ایک یہ کہ انسان پر اس کا دشمن حملہ کرتا ہے اور اُس حملے کا اُسے علم ہوتا ہے اور جہاں تک اُس کے لئے ممکن ہوتا ہے وہ اُس کا مقابلہ کرتا ہے اور اپنے بچاؤ کی تدبیر کرتا ہے۔دوسری حالت یہ ہوتی ہے کہ اُس کا دشمن ایسے وقت میں حملہ کرتا ہے جبکہ اُسے خبر نہیں ہوتی۔یا ایسے ذرائع سے حملہ کرتا ہے جن کی اُسے خبر نہیں ہوتی۔مثلاً اس کے کسی دوست کو خرید لیتا ہے اور اس کے ذریعے اُسے نقصان پہنچا دیتا ہے۔یا رات کو اُس پر سوتے سوتے حملہ کر دیتا ہے۔یا راستے میں چھپ کر بیٹھ جاتا اور اندھیرے میں حملہ کر دیتا ہے یا وہ اُسے تیر مار دیتا ہے یا کھانے میں