خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 104 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 104

$2003 104 خطبات مسرور تھا۔میں غم زدہ ہونے کی حالت میں لوٹ رہا تھا کہ میں قَرْنُ التَّعَالِب ، چوٹی پر پہنچا۔میں نے اپنا سراٹھا کر دیکھا تو ایک بادل مجھ پر سایہ کر رہا تھا۔میں نے دیکھا تو اس میں جبریل تھے۔انہوں نے مجھے مخاطب کر کے پکارا اور کہا اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی تیرے بارہ میں رائے سن لی ہے اور اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو آپ کے پاس بھیجا ہے تا کہ آپ اسے اس کام کا حکم دیں جو آپ اپنی قوم کے بارہ میں چاہتے ہیں۔پس مجھے پہاڑوں کے فرشتہ نے پکارا۔اس نے مجھے سلام کیا اور کہا اے محمد اللہ اب فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔اگر آپ چاہیں تو میں دونوں پہاڑوں کو ان پر اُلٹا دوں۔اس پر نبی ﷺ نے فرمایا : ”میں تو یہ خواہش رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی صلب سے ایسی نسل پیدا کرے جو خدائے واحد کی عبادت کرے اور اس کا کسی کو بھی شریک نہ قرار دئے“۔(بخاری کتاب بدء الخلق باب ذكر الملائكة) چنانچہ ان دعاؤں کے نتیجہ میں بنو ثقیف یعنی اہل طائف کو اسلام قبول کرنے کی سعادت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قبولیت دعا کے چند نمونے پیش ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ سردار نواب محمد علی خان صاحب، رئیس مالیر کوٹلہ کا لڑکا عبدالرحیم خان ایک شدید محرکہ تپ کی بیماری سے بیمار ہو گیا اور کوئی صورت جانبری کی دکھائی نہیں دیتی تھی گویا مردے کے حکم میں تھا۔اُس وقت میں نے اُس کے لئے دعا کی تو معلوم ہوا کہ تقدیر مبرم کی طرح ہے۔تب میں نے جناب الہی میں عرض کی کہ یا الہی میں اس کے لئے شفاعت کرتا ہوں۔اس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے فرمایا مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ یعنی کس کی مجال ہے کہ بغیر اذن الہی کے کسی کی شفاعت کر سکے۔تب میں خاموش ہو گیا۔بعد اس کے بغیر توقف کے الہام ہوا إِنَّكَ أَنْتَ الْمَجَاز » یعنی تجھے شفاعت کرنے کی اجازت دی گئی۔تب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے دعا کرنی شروع کی تو خدا تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی اور لڑکا گویا قبر میں سے نکل کر باہر آیا۔اور آثار صحت ظاہر ہوئے اور اس قدر لاغر ہو گیا تھا کہ مدت دراز کے بعد وہ اپنے اصلی بدن پر آیا اور تندرست ہو گیا اور زندہ موجود ہے“۔(حقيقة الوحى روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه (۲۳۰،۲۲۹