خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 102 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 102

$2003 102 خطبات مسرور اُس قوم میں پیدا ہوئے جو جاہلیت میں غرق تھی۔اور کوئی ربانی کتاب اُن کو نہیں پہنچی تھی۔اور ایک یہ مشابہت ہے کہ خدا نے ابراہیم کے دل کو خوب دھویا اور صاف کیا تھا یہاں تک وہ خولیش اور اقارب سے بھی خدا کے لئے بیزار ہو گیا اور دنیا میں بجز خدا کے اس کا کوئی بھی نہ رہا۔ایسا ہی بلکہ اس سے بڑھ کر ہمارے نبی ﷺ پر واقعات گزرے۔اور باوجود یکہ مکہ میں کوئی ایسا گھر نہ تھا جس سے آنحضرت کو کوئی شعبہ قرابت نہ تھا۔مگر خالص خدا کی طرف بلانے سے سب کے سب دشمن ہو گئے اور بحجز خدا کے ایک بھی ساتھ نہ رہا۔پھر خدا نے جس طرح ابراہیم کو اکیلا پا کر اس قدر اولا د دی جو آسمان کے ستاروں کی طرح بے شمار ہوگئی۔اسی طرح آنحضرت ﷺ کو اکیلا پا کر بے شمار عنایت کی۔اور وہ صحابہ آپ کی رفاقت میں دئے جو نُجُوم السَّمَاء کی طرح نہ صرف کثیر تھے بلکہ اُن کے دل تو حید کی روشنی سے چمک اٹھے تھے“۔ترياق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ٤٧٦ - ٤٧٧ حاشيه صفت السمیع کے بارے میں مزید چند احادیث اور اقتباسات پیش کرتا ہوں۔حضرت ابو موسی اشعری بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم ایک وادی کے قریب پہنچے تو لا اله إِلَّا الله اور الله اکبر کا ذکر بلند آواز میں کرنے لگے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو ! دھیما پن اختیار کرو کیونکہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے بلکہ إِنَّهُ مَعَكُمْ وَإِنَّهُ سَمِيعٌ قریب“ وہ تو تمہارے ساتھ ہے اور وہ بہت سننے والا اور قریب ہے۔(صحیح بخاری كتاب الجهاد باب ما يكره من رفع الصوت في التكبير) حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ آنحضرت علی رات کو جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور پھر کہتے ”اے اللہ تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔اس کے بعد آپ تین دفعہ لا الہ الا اللہ کہتے اور پھر تین دفعہ اللهُ اَكْبَرُ كَبِيرًا، کہتے اور پھر یہ دعا کرتے میں دھتکارے ہوئے شیطان کے وساوس اور اس کے شکوک و شبہات ڈالنے سے سمیع اور علیم خدا کی پناہ میں آتا ہوں۔(ابوداؤد كتاب الصلاة باب من راى الاستفتاح بسبحانك اللهم وبحمدك) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ