خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 69
69 $2003 خطبات مسرور ہلاک کر۔اے علیم وخبیر جو میرے دل کو اور میرے اندر کی پوشیدہ باتوں کو دیکھ رہا ہے۔اے میرے خدا ! میں تیری رحمت کے دروازے دعا کرنے والوں کے لئے کھلے دیکھتا ہوں۔پس یہ جو میں نے سعد اللہ کے حق میں دعا کی ہے اس کو قبول فرما اور رد نہ کر یعنی میری زندگی میں ہی اس کو ذلت کی موت دے۔(حقیقة الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ٤٣٥ تا ٤٤٦) پھر کانگڑہ کے زلزلہ کی خبر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: میں نے زلزلہ کی نسبت پیشگوئی کی تھی جو اخبار الحکم اور البدر میں چھپ گئی تھی کہ ایک سخت زلزلہ آنے والا ہے۔جو بعض حصہ پنجاب میں سخت تباہی کا موجب ہوگا اور پیشگوئی کی تمام عبارت یہ ہے : ” زلزلہ کا دھکا۔عَفَتِ الدَّيَارُ مَحِلُّهَا وَ مَقَامُهَا “۔چنانچہ یہ پیشگوئی ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کو پوری ہوئی۔(حقيقة الوحى، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۳۱) اور اس پیشگوئی کے مطابق کانگڑہ میں شدید زلزلہ آیا جس میں ہندوؤں کے مشہور مندر زمین بوس ہو گئے۔دھر مسالہ کی اور متفرق چھاؤنیاں جو تھیں ان میں بڑی تباہی آئی اور ایک محتاط اندازہ کے مطابق کہتے ہیں کہ ہمیں ہزار افراد لقمہ اجل ہوئے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عجیب معجزہ ہے کہ کسی احمدی کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔پھر کانگڑہ کے زلزلہ کے حالات بیان کرتے ہوئے حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ اپنی کتاب ”ذکر حبیب میں بیان فرماتے ہیں : دوم را اپریل ۱۹۰۵ء کی صبح کو جبکہ پنجاب میں سخت زلزلہ آیا اور کانگڑہ کے پہاڑ میں کئی ایک بستیاں بالکل تباہ ہو گئیں اور ہندوؤں کی دیوی جوال لکھی کی لاٹ بجھ گئی اور عمارت مسمار ہوگئی۔اس وقت صبح ساڑھے چھ بجے کے قریب قادیان میں بھی سخت زلزلہ محسوس ہوا مگر یہ خدا کا فضل رہا کہ جیسا کہ لاہور اور امرتسر میں کئی ایک مکانات گر گئے اور آدمی مر گئے اور بہتوں کو چوٹیں آئیں ، ایسا کوئی حادثہ قادیان میں نہیں ہوا۔میں ان دنوں کچھ بیمار تھا اور خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میرا علاج کرتے تھے۔روزانہ تازہ ادویہ منگوا کر اور ایک گولی اپنے ہاتھ سے مجھے بھیجا کرتے تھے۔میں