خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 570 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 570

$2003 570 خطبات مسرور ایسے لوگ کبھی بھی جنت میں نہیں جائیں گے۔تو کون عظمند آدمی ہے جو ایک عارضی مزے کے لئے ، دنیاوی چیز کے لئے ، ذراسی باتوں کا مزا لینے کے لئے ، اپنی جنت کو ضائع کرتا پھرے۔حضرت خلیفتہ اسیح الاول فر ماتے ہیں کہ: اس لئے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں اور درد دل سے کہتا ہوں کہ غیبتوں کو چھوڑ دو۔بغض اور کینے سے اجتناب کرو اور بکلی پر ہیز کرو اور بالکل الگ تھلگ رہو، اس سے بڑا فائدہ ہوگا۔انسان خود بخود اپنے آپ کو پھندوں میں پھنسا لیتا ہے ورنہ بات سہل ہے، بڑی آسان بات ہے۔جولڑ کے دوسروں کی نکتہ چینیاں اور غیبتیں کرتے ہیں اللہ کریم ان کو پسند نہیں کرتا۔اگر کسی میں کوئی غلطی دیکھو تو وہ خدا تعالیٰ اس کو راہ راست پر چلنے کی توفیق دیوے۔یاد رکھو اللہ کریم تو اب ختم۔معاف کر دیتا ہے۔جب تک انسان اپنا نقصان نہ اٹھائے اور اپنے اوپر تکلیف گوارا نہ کرے کسی دوسرے کو سکھ نہیں پہنچا سکتا۔(اس لئے ) بدصحبتوں سے بکلی کنارہ کش ہو جاؤ۔میں نے جیسے پہلے بھی کہا ہے کہ بعض لوگ صرف باتوں کا مزا لینے کے لئے ایسی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں۔شروع میں صرف سن رہے ہوتے ہیں اور ہنسی ٹھٹھے کی باتوں پہ ہنس رہے ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ عادت پڑ جاتی ہے ایسی باتوں کی اور خود بھی ایسی باتوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔تو نو جوانوں کو خاص طور پر اس سے بچنا چاہئے۔شروع میں ہی، بچپن سے ہی اطفال میں بھی اور خدام میں بھی یہ عادت ڈالیں کہ کسی کی برائی نہیں کرنی۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ ظن کے اگر قریب بھی جانے لگو تو اس سے بچ جاؤ کیونکہ اس سے پھر تجسس پیدا ہو گا۔اگر تجسس تک پہنچ چکے ہو پھر بھی رُک جاؤ کہ اس سے غیبت تک پہنچ جاؤ گے۔اور یہ ایک بہت بڑی بد اخلاقی ہے اور مردار کھانے کی مانند ہے ﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ﴾ تقویٰ اختیار کرو، پورے پورے پر ہیز گار بن جاؤ مگر یہ سب کچھ اللہ توفیق دے تو حاصل ہوتا ہے۔اس لئے اس معاشرے میں جہاں ہر طرف گند پھیلا ہوا ہے، ہر طرف گندگی ہے، باتوں کی ؟ اس سے بچنے کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے رہنا چاہئے ، اسی سے مدد مانگنی بھی، چاہئے تب ہی ہم اس سے بچ سکتے ہیں۔(حقائق الفرقان جلد نمبر ۲ صفحه (٧،٦