خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 477
خطبات مسرور 477 $2003 مجد دین پر جب اس پیشگوئی کو چسپاں کیا جائے گا تو مِنْ كُـلّ امر کے معنے سب امور کے نہیں ہونگے بلکہ سب وقتی ضرورت کے امور کے ہونگے یعنی جس جس خرابی کی اصلاح کے لئے انہیں ملائکہ کی مدد کی ضرورت ہوگی ان خرابیوں کی اصلاح کے لئے ملائکہ نازل کر دئے جائیں گے یا اسلام کی ترقی کے لئے جن امور کی ضرورت ہوگی ان امور میں انہیں ملائکہ کی مدد حاصل ہوگی۔گویا مِنْ كُلّ اَمر کے معنے ہوں گے کل ضروری امور۔لیکن وہ موعود جو بروز کامل کے طور پر ظاہر ہوں گے چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول کریم ﷺ کے کامل بروز ہوں گے اس لئے جس طرح رسول کریم ﷺ کے متعلق اس آیت کے یہ معنے تھے کہ قرآنی شریعت کو ہر لحاظ سے کامل کیا جائے گا۔اسی طرح ان کے متعلق اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ اس زمانہ میں قرآن کریم کی ساری خوبیاں مخفی ہو جائیں گی۔تب اللہ تعالیٰ آسمان سے اپنے ملائکہ کو نازل فرمائے گا اور قرآن کریم کی تمام خوبیوں کو دنیا پر دوبارہ ظاہر کرے گا۔اس صورت میں مِن كُلِّ امْر کے معنے صرف ضروری امور کے نہیں ہوں گے بلکہ تمام امور کے ہوں گے یعنی کوئی امرایسا نہیں ہوگا جس کے لئے آسمان سے فرشتوں کا نزول نہ ہو۔(تفسير كبير جلد نهم صفحه ۳۳۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : سورۃ القدر اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لوگوں سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا بلکہ جب وہ گمراہ ہو جائیں گے اور اندھیروں میں گر جائیں گے تو ان پر لیلتہ القدر کا زمانہ آئے گا اور روح زمین پر نازل ہوگا۔یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے گا اسے اتارے گا اور اسے مجدد بنا کر مبعوث فرمائے گا اور روح کے ساتھ ملائکہ بھی نازل ہوں گے جو لوگوں کے دلوں کو حق اور ہدایت کی طرف کھینچ کر لائیں گے اور یہ سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا“۔(حمامة البشرى صفحه ۹۲ ۹۳ بحواله تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام صفحه ۲۷۱-۶۷۰ حاشیه)