خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 44 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 44

$2003 44 خطبات مسرور پیشگوئی کے مطابق ہے۔پھر فرمایا: ﴿يَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنَهُمْ فَلَمْ نُغَادِرُ مِنْهُمْ أَحَدًا (سورة الكهف: ٤٨) اور جس دن ہم پہاڑوں کو حرکت دیں گے اور تو زمین کو دیکھے گا کہ وہ اپنا اندرونہ ظاہر کر دے گی اور ہم (اس آفت میں) ان سب کو اکٹھا کریں گے اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ہلاکت خیز جنگوں کا زمانہ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ اس جگہ آدمیوں کا ذکر ہے پہاڑوں اور دریاؤں کا ذکر نہیں۔اور بتایا گیا ہے کہ یہ سب پیشگوئیاں اس دن پوری ہوں گی جب بڑے بڑے لوگ جنگوں کے لئے نکل کھڑے ہوں گے۔اور تو ساری زمین کو یعنی سب اہل زمین کو دیکھے گا کہ جنگ کے لئے ایک دوسرے کے مقابل پر کھڑے ہو جائیں گے۔اور ایسی جنگ ہوگی کہ گویا ان میں سے ایک بھی نہ بچے گا۔اس واقعہ کی طرف انجیل میں بھی اشارہ ہے۔حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ آخری زمانہ میں قوم پر قوم اور بادشاہت پر بادشاہت چڑھائی کرے گی۔( مـتــی بــاب ۲۴) فرمایا : ہو سکتا ہے کہ الارض سے ادنیٰ طبقہ کے لوگ مراد ہوں اور ان جبال سے مراد بڑے لوگ۔یعنی اس دن ایک طرف سے جبال یعنی بڑی لوگ یا دوسرے لفظوں میں ڈکٹیٹر نکلیں گے۔اور دوسری طرف سے ارض یعنی ڈیموکریسیز کے حامی اور حکومت عوام کے نمائندے نکلیں گے اور آپس میں خوب جنگ ہوگی۔اب بڑی طاقتوں کو جو اپنے آپ کو بہت مہذب سمجھتی ہیں دیکھ لیں کہ وہ یہی کچھ حرکتیں کر رہی ہیں اور گو کہ پہلے خیال تھا کہ بلاک ختم ہورہے ہیں اب پھر نئے سرے سے نئے بلاک بن رہے ہیں اور دنیا بلاکوں میں تقسیم ہو رہی ہے اور یہ عمل اب شروع ہو چکا ہے۔اب یہ جنگیں کب ہوں گی، اللہ بہتر جانتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔(تفسیر کبیر جلد ٤ صفحه (٤٥٨