خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 43

خطبات مسرور 43 آئندہ زمانہ میں ظاہر ہونے والی خبریں $2003 اب آئندہ زمانہ میں ظاہر ہونے والی وہ خبریں جن کا قرآن کریم میں بیان فرمایا گیا ہے ان کا کچھ پہلے ذکر آچکا ہے، کچھ مزید خبروں کا یہاں مختصر اذکر کروں گا۔مثلاً اس زمانہ میں منتشر یہودیوں کی فلسطین میں جمع ہونے کی خبر اللہ تعالیٰ نے دی۔فرمایا وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيْلَ اسْكُنُوْا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدَ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ موعودہ سرزمین میں سکونت اختیار کرو اور جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم تمہیں پھر اکٹھا کر کے لے آئیں گے۔اس کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ﴿ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الأخرة یعنی اب تم کنعان میں جاؤ لیکن ایک وقت کے بعد تم کو وہاں سے نکلنا پڑے گا۔پھر خدا تعالیٰ تم کو واپس لائے گا۔پھر تم نافرمانی کرو گے اور دوسری دفعہ عذاب آئے گا اس کے بعد تم جلا وطن رہو گے یہاں تک کہ تمہاری مثیل قوم کے متعلق جو دوسری تباہی کی خبر ہے اس کا وقت آجائے اس وقت پھر تم کو مختلف ملکوں سے اکٹھا کر کے ارض مقدس میں واپس لایا جائے گا۔(تفسیر کبیر جلد ٤ صفحه ٣٩٧ چنانچہ دیکھ لیں اس الہی خبر کے مطابق ۱۸۸۲ء سے ۱۹۰۳ء کے دوران عثمانی ترکوں نے یہود کو پہلی دفعہ دوبارہ فلسطین کے علاقہ میں آباد ہونے کی اجازت دی تو روس کے یہودی یہاں آکر آباد ہونا شروع ہوئے۔بیسویں صدی کے شروع میں یہود کی تعداد بہت تھوڑی تھی لیکن پھر یہ تعداد بڑھتی گئی اور پہلی جنگ عظیم میں ترکی کی سلطنت کمزور ہونے پر یورپ کی مفاد پرست طاقتوں نے بیت المقدس میں کئی قونصلیٹ قائم کئے اور پھر یہودی شہر تل ابیب کا قیام ہوا۔پھر برطانوی حکومت نے ایک اعلان کے ذریعہ آزاد یہودی ریاست کا منصوبہ دیا اور پھر ۱۹۱۷ء میں برطانیہ کا یہ حق بھی لیگ آف نیشن نے تسلیم کیا کہ وہ فلسطین کی آبادکاری میں اس کا پورا پورا ساتھ دے۔پھر ۱۹۴۷ء میں دنیا کے تمام علاقوں سے اس قدر یہودی اکٹھے ہوئے کہ آج آپ دیکھیں کہ تمام مسلمان ممالک کو ایک عجیب عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے اور یہ اب تعدا در روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے۔اور یہ خدائی