خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 42

42 $2003 خطبات مسرور اے میرے پیارے بیٹے ایقینا اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی چیز ہو پس وہ کسی چٹان میں ( دبی ہوئی ) ہو یا آسمان یا زمین میں کہیں بھی ہو، اللہ اسے ضرور لے آئے گا۔یقینا اللہ بہت باریک بین (اور) باخبر ہے۔حضرت خلیفہ امسح الاول رضی اللہ عنہاس کی تشریح میں فرماتے ہیں:۔﴿إِنَّ۔إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ کسی شئے کے پیدا کرنے کے واسطے اس شئے کا کامل علم لازم ہے، خدا لطیف ہے، خبیر ہے۔روح اور مادہ کے متعلق اسے کامل علم ہے کہ وہ کیونکر پیدا ہو سکتا ہے اور پھر اسے قدرت بھی ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے کوئی ذرہ اور روح پیدا ہی نہیں کیا تو اس کے متعلق کامل علم کیونکر رکھ سکتا ہے۔(حقائق الفرقان جلد صفحه ۱۷۰) پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ادنی واعلیٰ سب باتوں سے باخبر ہے۔علم الہی پر ایمان لانے سے نیکی پیدا ہوتی ہے۔جب انسان کو یہ یقین ہو کہ کوئی بڑا شخص مجھے دیکھ رہا ہے تو پھر وہ بدی کرنے سے رکتا ہے۔پھر اپنے بزرگوں، افسروں، حاکموں کے سامنے بدی کرنے سے اور بھی رکتا ہے۔ایسا ہی جس کو یہ ایمان ہو کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام افعال، حرکات وسکنات کو دیکھتا ہے اور ہمارے دل کے خیالات اور ارادات سے بھی باخبر ہے وہ شخص کبھی بدی کے نزدیک نہیں جاسکتا۔حقائق الفرقان جلد ۳ صفحه ٣٦٧ اگلی آیت ہے: ﴿وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيرًا﴾ (سورة الاحزاب : ۳)۔اور اس کی پیروی کر جو تیری طرف تیرے رب کی طرف سے وحی کیا جاتا ہے۔یقینا اللہ ، اس سے جو تم کرتے ہو،خوب باخبر ہے۔پھر سورۃ سب میں فرمایا: ﴿ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ۔وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ﴾ (سورة السبا: ٢)۔سب حمد اللہ ہی کی ہے جس کا وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔اور آخرت میں بھی تمام تر حمد اسی کی ہوگی اور وہ بہت حکمت والا اور ہمیشہ خبر رکھتا ہے۔