خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 429 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 429

429 $2003 خطبات مسرور آنحضرت ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور جس نے رمضان کے تقاضوں کو پہچانا اور جو اس رمضان کے دوران ان تمام باتوں سے محفوظ رہا جن سے اس کو محفوظ رہنا چاہئے تھا تو اس کے روزے اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل، مسند ابی سعید جلد ۳ صفحه ٤٥٧ پھر بعض لوگ سحری نہیں کھاتے ، عادتا نہیں کھاتے یا اپنی بڑائی جتانے کے لئے نہیں کھاتے اور اٹھ پہرے روزے رکھ رہے ہوتے ہیں ان کے لئے بھی حکم ہے۔حدیث میں آتا ہے۔حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سحری کھایا کر وسحری کھانے میں برکت ہے۔پھر یہ کہ سحری کا وقت کب تک ہے؟ ایک تو یہ کہ جب سحری کھا رہے ہوں تو جو بھی لقمہ یا چائے جو آپ اس وقت پی رہے ہیں، آپ کے ہاتھ میں ہے اس کو مکمل کرنے کا ہی حکم ہے۔روایت آتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس وقت تم میں سے کوئی اذان سن لے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اس کو نہ رکھے یہاں تک کہ اپنی ضرورت پوری کر لے یعنی وہ جو کھا رہا ہے وہ مکمل کر لے۔پھر بعض دفعہ غلطی لگ جاتی ہے اور پتہ نہیں لگتا کہ روزے کا وقت ختم ہو گیا ہے اور بعض دفعہ چند منٹ اوپر چلے جاتے ہیں تو اس صورت میں کیا یہ روزہ جائز ہے یا نہیں۔تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے کسی نے سوال کیا کہ میں مکان کے اندر بیٹھا ہوا تھا اور میرا یقین تھا کہ ابھی روزہ رکھنے کا وقت ہے اور میں نے کچھ کھا کے روزہ رکھنے کی نیت کی لیکن بعد میں ایک دوسرے شخص۔معلوم ہوا کہ اس وقت سفیدی ظاہر ہو گئی تھی اب میں کیا کروں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ایسی حالت میں اس کا روزہ ہو گیا۔دوبارہ رکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اپنی طرف سے اس نے احتیاط کی اور نیت میں فرق نہیں صرف غلطی لگ گئی اور چند منٹوں کا فرق پڑ گیا۔پھر افطاری میں جلدی کرنے کے بارہ میں حکم آتا ہے۔ابی عطیہ نے بیان کیا کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ کے پاس آئے اور پوچھا اے ام المومنین ! حضور کے صحابہ میں سے دوصحابی ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی نیکی اور خیر کے حصول میں کوتاہی کرنے والا نہیں لیکن ان میں سے ایک تو افطاری میں جلدی کرتے ہیں اور نماز بھی جلدی پڑھتے ہیں۔یعنی نماز کے پہلے وقت میں پڑھ لیتے ہیں اور دوسرے افطاری اور نمازوں میں تاخیر کرتے ہیں۔حضرت عائشہ نے پوچھا کہ ان میں