خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 428
$2003 428 خطبات مسرور بھی کہا اپنی حیثیت کے مطابق فدیہ دینا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نیتوں کو جانتا ہے یہی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس میں بیان فرمایا۔آپ نے آگے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو دوسری امتوں کی طرح اس اُمت میں کوئی قید نہ رکھتا مگر اس نے قیدیں بھلائی کے لئے رکھی ہیں۔” میرے نزد یک اصل یہی ہے کہ جب انسان صدق اور کمال اخلاص سے باری تعالیٰ میں عرض کرتا ہے کہ اس مہینہ میں مجھے محروم نہ رکھ تو خدا تعالیٰ اسے محروم نہیں رکھتا۔اور ایسی حالت میں اگر انسان ماہ رمضان میں بیمار ہو جائے تو یہ بیماری اس کے حق میں رحمت ہوتی ہے کیونکہ ہر ایک عمل کا مدار نیت پر ہے۔مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے وجود سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دلاور ثابت کرے“۔یعنی بہادر ثابت کرے۔”جو شخص روزہ سے محروم رہتا ہے مگر اس کے دل میں یہ نیت درد دل سے تھی کہ کاش میں تندرست ہوتا اور روزہ رکھتا اور اس کا دل اس بات کے لئے گریاں ہے تو فرشتے اس کے لئے روزہ رکھیں گے۔فرمایا اس کا دل اس بات کے لئے گریاں ہے، بہت تڑپ رہا ہے، بہت افسوس کر رہا ہے ، تو فرشتے اس کے لئے روزہ رکھیں گے بشرطیکہ وہ بہانہ جو نہ ہو تو خدا تعالیٰ اسے ہرگز ثواب سے محروم نہ رکھے گا“۔( البدر ۱۲ دسمبر ۱۹۰۳ء، ملفوظات جلد چهارم صفحه ٢٥۸ - ٢٥٩ اب روزوں سے متعلق بعض متفرق باتیں ہیں۔ان کے متعلق اب میں کچھ بتاتا ہوں۔بعض لوگ سستی کی وجہ سے یا کسی عذر یا بہانہ کی وجہ سے روزے نہیں رکھتے۔ان کو خیال آجاتا ہے کہ روزے رکھنے چاہئیں۔بعض لوگوں کو ایک عمر گزرنے کے بعد خیال آتا ہے کہ ایک عمر گزار دی۔صحت تھی ، طاقت تھی ، مالی وسعت تھی ، تمام سہولیات میسر تھیں اور روزے نہیں رکھے۔تو مجھے جو نیکیاں بجا لانی تھیں نہیں ادا کر سکا تو اب کیا کروں ؟ تو ایسا ہی ایک شخص حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ میں نے آج سے پہلے کبھی روزہ نہیں رکھا اس کا کیا فدیہ دوں؟ فرمایا: خدا ہر شخص کو اس کی وسعت سے باہر دکھ نہیں دیتا۔وسعت کے موافق گزشتہ کا فدیہ دے دو اور آئندہ عہد کرو کہ سب روزے رکھوں گا“۔(البدر جلد ١ نمبر ١٢ بتاريخ ١٦ / جنوری ۱۹۰۳ء) حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے