خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 16
خطبات مسہ $2003 16 تشہد وتعوذ کے بعد حضور انور نے سورۃ البقرۃ کی حسب ذیل آیت تلاوت فرمائی وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلَّ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهَرُ۔وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدْنَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْ لَا أَنْ هَدَنَا اللهُ۔لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبَّنَا بِالْحَقِّ وَنُوْدُوا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أَوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُوْنَ (سورة الاعراف: ۴۴) اور ہم ان کے سینوں سے کینے کھینچ نکالیں گے ان کے زیر تصرف نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے کہ تمام حمداللہ ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں یہاں پہنچنے کی راہ دکھائی جبکہ ہم کبھی ہدایت نہ پاسکتے تھے اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا۔یقیناً ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول حق کے ساتھ آئے تھے اور انہیں آواز دی جائے گی کہ یہ وہ جنت ہے جس کا تمہیں وارث ٹھہرایا گیا ہے بسبب اُس کے جو تم عمل کرتے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :- حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی مستحق تعریف کے اچھے فعل پر کی جائے نیز ایسے انعام کنندہ کی مدح کا نام ہے جس نے اپنے ارادہ سے انعام کیا ہو۔اور اپنی مشیت کے مطابق احسان کیا ہو۔اور حقیقت حمد گما کہ صرف اسی ذات کے لئے متحقق ہوتی ہے جو تمام فیوض وانوار کا مبدء ہو اور علی وجہ البصیرت کسی پر احسان کرے، نہ کہ غیر شعوری طور پر یا کسی مجبوری سے۔اور حمد کے یہ معنی صرف خدائے خبیر و بصیر کی ذات میں ہی پائے جاتے ہیں۔اور وہی محسن ہے اور اول و آخر میں سب احسان اسی کی طرف سے ہیں۔اور سب تعریف اسی کے لئے ہے اس دنیا میں بھی ، اُس دنیا میں بھی۔اور ہر حمد جو اس کے غیروں کے متعلق کی جائے اس کا مرجع بھی وہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے لفظ حمد میں ان