خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 189 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 189

189 $2003 خطبات مسرور رکھے گئے ہیں ان میں پھینکیں۔اور مہمان بھی اور میزبان بھی دونوں ان چیزوں کا خیال رکھیں۔یعنی یہ صرف کارکنان یا میز بانوں کا کام نہیں ہے بلکہ جو بھی دیکھے جلسہ میں جو بھی شامل ہونے آیا ہے اگر گندگی دیکھے تو اس کو صاف کرے۔کوئی ڈبے پڑے ہیں، گلاس پڑے ہیں، کوئی ریپر پڑے ہیں، کوئی اس قسم کی چیز فوراً اٹھا کر ڈسٹ بن میں ڈالیں۔ابو داؤد کی ایک حدیث ہے حضرت ابو شریح بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ مہمان کی عزت کرے۔ایک دن رات تک اس کی خدمت تو اس کا انعام شمار ہوگی جبکہ تین دن تک مہمان نوازی ہوگی۔اس کے بعد ( کی خدمت ) صدقہ ہے۔اور اس (مہمان) کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اس کے ہاں ٹھہرا رہے اور اس کو تکلیف میں ڈالے۔(ابو داؤد كتاب الاطعمة باب ما جاء في الضيافة یہاں کیونکہ دور دور سے مہمان آتے ہیں اس لئے کوشش ہوتی ہے کہ جتنا رک سکتے ہیں رکیں۔لیکن پھر بھی یہی کوشش کرنی چاہیئے اگر جماعتی نظام کے تحت آپ ٹھہرے ہوئے ہیں تو جلسے کے بعد جتنی جلدی واپس جا سکتے ہیں چلے جائیں۔لیکن کارکنان پر بہر حال یہ لازم ہے، جو میز بان ہیں ، اور ان کا یہ فرض ہے کہ مہمان کی مہمان نوازی اسی طرح خوش خلقی سے کرتے رہیں جب تک انتظام کے تحت اس مہمان نوازی کا انتظام ہے۔یہ نہیں کہ ادھر جلسہ ختم ہوا اور ادھر ڈیوٹی والے کارکن غائب۔پتہ نہیں کہاں گئے۔اور انتظامیہ پریشان ہو رہی ہو۔تو جو بھی ڈیوٹی دیں پوری محنت اور دیانتداری سے دیں۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق دے۔لیکن یہاں ایک وضاحت کر دوں کہ جو مہمان آتے ہیں اور اپنے عزیزوں کے ہاں ٹھہرتے ہیں وہاں وہ قرابت داروں کا سلوک ہوگا۔تو ایسے عزیزوں رشتہ داروں کے پاس جو مہمان ٹھہرے ہیں وہ ان کی مہمان نوازی بہر حال کریں۔صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے۔حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ معمولی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو اگر چہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے پیش آنے کی ہی نیکی ہو۔(صحيح مسلم - كتاب البرِّ وَالصَّلَةِ باب ِاسْتِحْبَابُ طَلَاقَةِ الْوَجْهِ عِنْدَ اللقَاءِ