خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 72 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 72

خطبات مسرور جلد 13 72 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جنوری 2015ء ان میں کامیابی حاصل کرنے کی طرف لے جاتے ہیں۔بہر حال کوئی انسان برابر نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ نے برابر پیدا ہی نہیں کیا، نہ حالات اس کو برابر رکھ سکتے ہیں۔انسانوں کی صلاحیتوں میں فرق ہوتا ہے۔برابر مواقع بھی دیئے جائیں تو تب بھی کوئی آگے نکل جاتا ہے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔عقل کے علاوہ بھی بعض عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔یہی حالت ایمان کی بھی ہے۔جس طرح ظاہری طور پر ہوتا ہے اس طرح ایمان میں بھی یہی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کی بھی یہی حالت ہے۔اپنی اپنی صلاحیتوں اور استعدادوں کے مطابق کوئی آگے نکل جاتا ہے، کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔ہم یہ امید تو سب سے کر سکتے ہیں کہ سب ایمان لے آئیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا ہے نہ یہ کیا جا سکتا ہے کہ سب کا ایمان اور عمل کا معیار ایک جیسا ہو جائے۔اللہ تعالیٰ یہ تو فرماتا ہے کہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔قرآن کریم میں بھی ذکر ہے۔کیوں اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں۔لیکن یہ مطالبہ قرآن کریم میں نہیں ہے کہ ہر ایک حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے مومن کیوں نہیں بنتے۔ایک روایت میں آتا ہے ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام کے متعلق پوچھا۔آپ نے فرما یا دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا فرض ہے۔اس نے پوچھا اس کے علاوہ بھی کوئی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔اگر نفل پڑھنا چاہو تو پڑھ سکتے ہو۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ماہ کے روزے رکھنا فرض ہے۔اس نے پوچھا اس کے علاوہ بھی کوئی روزے فرض ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ہاں نفلی روزے رکھنا چا ہوتو رکھ سکتے ہو۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کا بھی ذکر فرمایا۔اس پر اس نے پوچھا۔اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی زکوۃ ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ہاں ثواب کی خاطر تم تنفلی صدقہ دینا چاہو تو دے سکتے ہو۔یہ باتیں سن کر وہ شخص یہ کہتے ہوئے واپس چلا گیا کہ خدا کی قسم ! نہ اس سے زیادہ کروں گا نہ کم۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ سچ کہتا ہے تو اس کو کامیاب سمجھو۔(صحیح البخاری کتاب الايمان باب الزكاة من الاسلام حدیث نمبر 46) آپ نے اس کو فلاح پانے والا کہا اور یہ کہہ کر جنت کی بشارت دی۔پس اس بات سے پتا چلتا ہے کہ اسلام نے ہر ایک سے حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکر جیسے ایمان کا مطالبہ نہیں کیا۔ہر ایک کے مختلف درجے ہیں۔ہر ایک کی طاقتیں ہیں۔ہر ایک کے ایمان کے معیار ہیں۔حضرت ابوبکر زکوۃ کے علاوہ بھی گھر کا اپنا سارا مال اٹھا کے لے آتے ہیں۔حضرت عمرؓ سمجھتے ہیں آج میں آگے نکل جاؤں گا اور آدھا مال گھر کا لے آتے ہیں۔لیکن جب دیکھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام